کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: بردہ آزاد کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 964
964 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ امْرَءًا مُسْلِمًا اسْتَنْقَذَاللهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے بھی کبھی کسی مسلمان (غلام) کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس غلام کے جسم کے ہر عضو کی آزادی کے بدلے اس شخص کے جسم کے بھی ایک ایک عضو کو دوزخ سے آزاد کرے گا۔
وضاحت:
امام خطابی فرماتے ہیں کہ بعض علماء کے نزدیک مستحب یہ ہے کہ آزاد کردہ غلام کامل اعضاء والا ہونا چاہیے۔ لنگڑا، بھینگا یا ٹنڈا منڈا نہ ہو تاکہ آزاد کرنے والے کو قیامت کے دن جہنم سے پورے جسم کے ساتھ آزادی حاصل ہو۔(مرتبؒ)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب العتق / حدیث: 964
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 49 كتاب العتق: 1 باب ما جاء في العتق وفضله»