حدیث نمبر: 960
960 صحيح حديث عَائِشَةَ أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لِي فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ ذلِكَ بَرِيرَةُ َلأهْلِهَا فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لَنَا؛ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ قَالَ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كَتَابِ اللهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ، شَرْطُ اللهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سیّدہ بریرہ رضی اللہ عنہ ن کے پاس اپنے معاملہ مکاتبت میں مدد لینے آئیں ابھی انہوں نے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ تو اپنے مالکوں کے پاس جا اگر وہ یہ پسند کریں کہ تیرے معاملہ مکاتبت کی پوری رقم میں ادا کر دوں اور تمہاری ولاء میرے ساتھ قائم ہو تو میں ایسا کر سکتی ہوں سیّدہ بریرہ نے یہ صورت اپنے مالکوں کے سامنے رکھی لیکن انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ اگر وہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) تمہارے ساتھ ثواب کی نیت سے یہ نیک کام کرنا چاہتی ہیں تو انہیں اختیار ہے لیکن تمہاری ولاء تو ہمارے ہی ساتھ رہے گی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ تو خرید کر انہیں آزاد کر دے۔ ولاء تو اسی کے ساتھ ہوتی ہے جو آزاد کر دے راوی نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا کہ کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی اصل کتاب اللہ میں نہیں پس جو بھی کوئی ایسی شرط لگائے جس کی اصل کتاب اللہ میں نہ ہو تو وہ ان سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتا خواہ وہ ایسی سو شرطیں کیوں نہ لگا لے اللہ تعالیٰ کی شرط ہی سب سے زیادہ معقول اور مضبوط ہے۔
حدیث نمبر: 961
961 صحيح حديث عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاَثُ سُنَنٍ: إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ؛ فَقَالَ: أَلَمْ أَرَ الْبُرْمَةَ فِيهَا لَحْمٌ قَالُوا: بَلَى، وَلكِنْ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لاَ تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ؛ قَالَ: عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ
مولانا داود راز
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ بریرہ سے دین کے تین مسئلے معلوم ہو گئے اول یہ کہ انہیں آزاد کیا گیا اور پھر ان کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا (کہ چاہیں ان کے نکاح میں رہیں ورنہ الگ ہو جائیں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (انہیں کے بارے میں) فرمایا کہ ولا اسی سے قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے اور ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو ایک ہانڈی میں گوشت پکایا جا رہا تھا پھر کھانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے روٹی اور گھر کا سالن پیش کیا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو ہانڈی میں گوشت پکتا دیکھا ہے؟ عرض کیا گیا کہ جی ہاں لیکن وہ گوشت بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے اور آپ صدقہ نہیں کھاتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے بریرہ کی طرف سے تحفہ ہے۔
وضاحت:
سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کی آزادی کے واقعہ کے سبب تین شرعی احکام معلوم ہوئے (۱) جب خاوند اور بیوی دونوں غلام ہوں اور بیوی پہلے آزاد ہو جائے تو اسے نکاح کے فسخ کا اختیار ہو گا۔(۲) جب صدقہ اس کے مستحق کو مل جائے تو وہ ایسے آدمی کو بھی کھلا اور عطا کر سکتا ہے جو صدقہ کا مستحق نہیں۔(۳) آزادی کی نسبت(ولاء کی نسبت) اس کی طرف ہو گی جو رقم لگا کر آزاد کرتا ہے۔(مرتبؒ)