کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: عورتوں کے ساتھ خوش خلقی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 933
933 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ، إِنْ أَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَا، وَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَفِيها عِوَجٌ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت مثل پسلی کے ہے اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ لو گے اور اگر اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہو گے تو اس کی ٹیڑھ کے ساتھ ہی فائدہ حاصل کرو گے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الرضاع / حدیث: 933
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 79 باب المداراة مع النساء»
حدیث نمبر: 934
934 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُؤْذِي جَارَهُ، وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا فَإِنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ، وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلاَهُ، فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ، فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور میں تمہیں عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور پسلی میں بھی سب سے زیادہ ٹیڑھا اس کے اوپر کا حصہ ہے اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ ڈالو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی باقی رہ جائے گی اس لئے میں تمہیں عورتوں کے بارے میں اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الرضاع / حدیث: 934
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 80 باب الوصاة بالنساء»
حدیث نمبر: 935
935 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لَوْلاَ بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزِ اللَّحْمُ، وَلَوْلاَ حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ اگر قوم بنی اسرائیل نہ ہوتی تو گوشت نہ سڑا کرتا اور اگر حوا نہ ہوتیں تو عورت اپنے شوہر سے دغا نہ کرتی۔
وضاحت:
قتادہ سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل کو سلویٰ کا گوشت ذخیرہ کرنے سے منع کیا گیا تھامگر انہوں نے ذخیرہ کر لیا جس کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے اسے بدبودار بنا دیا تو پھر یہ معاملہ اسی طرح برقرار ہوا اور گوشت خراب ہونا شروع ہو گیا۔(مرتبؒ)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الرضاع / حدیث: 935
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 1 باب خلق آدم صلوات الله عليه وذريته»