کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: باکرہ اور ثیبہ کے پاس زفاف کے بعد شوہر کے قیام کی مدت
حدیث نمبر: 925
925 صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ، إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ، أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، وَقَسَمَ؛ وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْرِ، أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاَثًا، ثُمَّ قَسَمَ
مولانا داود راز
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سنت یہ ہے کہ جب کوئی شخص پہلے سے شادی شدہ بیوی کی موجودگی میں کسی کنواری عورت سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے اور جب کسی کنواری بیوی کی موجودگی میں پہلے سے شادی شدہ عورت سے نکاح کرے تو اس کے ساتھ تین دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الرضاع / حدیث: 925
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 101 باب إذا تزوج الثيب على البكر»