کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: مدینہ میں رہنے کی فضیلت جب لوگ مدینہ سے کوچ کر رہے ہوں
حدیث نمبر: 877
877 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَتْرُكُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ لاَ يَغْشَاهَا إِلاَّ الْعَوَافِ يُرِيدُ عَوَافِيَ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ وَآخِر مَنْ يَحْشَرُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ يُرِيدَانِ الْمَدِينَةَ، يَنْعَقَانِ بِغَنَمِهِمَا فَيَجِدَانِهَا وَحْشًا، حَتَّى إِذَا بَلَغَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ خَرَّا عَلَى وُجُوهِهِمَا
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کہ تم لوگ مدینہ کو بہتر حالت میں چھوڑ جاؤ گے پھر وہ ایسا اجاڑ ہو جائے گا کہ وہاں وحشی جانور درندے اور پرندے بسنے لگیں گے اور آخر میں مزینہ کے دو چرواہے مدینہ آئیں گے تا کہ اپنی بکریوں کو ہانک لے جائیں لیکن وہاں انہیں صرف وحشی جانور نظر آئیں گے آخر ثنی الوداع تک جب پہنچیں گے تو اپنے منہ کے بل گر پڑیں گے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 877
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 29 كتاب فضائل المدينة: 5 باب من رغب عن المدينة»