کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: مدینہ کا بری چیزوں کو اپنے سے دور کرنا
حدیث نمبر: 872
872 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى، يَقُولُونَ يَثْرِبُ، وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ایک ایسے شہر میں ہجرت کا حکم ہوا ہے جو دوسرے شہروں کو کھا لے گا (یعنی ان سب کا سردار بنے گا) منافقین اسے یثرب کہتے ہیں لیکن اس کا نام مدینہ ہے وہ (برے) لوگوں کو اس طرح باہر کر دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو نکال دیتی ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 872
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 29 كتاب فضائل المدينة: 2 باب فضل المدينة وأنها تنفي الناس»
حدیث نمبر: 873
873 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الإِسْلاَمِ، فَأَصَابَ الأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ، فَأَتَى الأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبى؛ ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبى؛ فَخَرَجَ الأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طِيبُهَا
مولانا داود راز
سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی پھر اسے مدینہ میں بخار آ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ میری بیعت فسخ کر دیجئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا پھر وہ دوبارہ آیا اور کہا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی انکار کیا پھر وہ آیا اور بیعت فسخ کرنے کا مطالبہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ پھر انکار کیا اس کے بعد وہ خود ہی (مدینہ سے) چلا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے اپنی میل کچیل کو دور کر دیتا ہے اور خالص مال رکھ لیتا ہے۔
وضاحت:
حدیث کا معنی یہ ہے کہ کہ مدینہ سے ہر وہ شخص نکل جائے گا جس کا ایمان خالص نہیں۔ اس میں صرف خالص ایمان والے رہ جائیں گے۔(مرتبؒ)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 873
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 93 كتاب الأحكام: 47 باب من بايع ثم استقال البيعة»
حدیث نمبر: 874
874 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: إِنَّهَا طَيْبَةُ تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ
مولانا داود راز
سیّدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مدینہ طیبہ ہے یہ خباثت کو اس طرح دور کر دیتا ہے جیسے آگ چاندی کی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 874
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 4 سورة النساء: 15 باب فما لكم في المنافقين فئتين»