کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: مدینہ کی فضیلت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا اور اس کے شکار کے حرام ہونے اور اس کے حرم کی حدود کا بیان
حدیث نمبر: 863
863 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَدَعَا لَهَا وَحَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ وَدَعَوْتُ لَهَا، فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا، مِثْلَ مَا دَعَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ لِمَكَّةَ
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا اور اس کے لئے دعا فرمائی میں بھی مدینہ کو اسی طرح حرام قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا اور اس کے لئے اس کے مد اور صاع (غلہ ناپنے کے دو پیمانے) کی برکت کے لئے اسی طرح دعا کرتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے کی تھی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 863
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 53 باب بركة صاع النبي صلی اللہ علیہ وسلم ومدهم»
حدیث نمبر: 864
864 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأبِي طَلْحَةَ الْتَمِسْ غُلاَمًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفنِي وَرَاءَهُ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نَزَلَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ فَلَمْ أَزَلْ أَخْدُمُهُ حَتَّى أَقْبَلْنَا مِنْ خَيْبَرَ، وَأَقْبَلَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، قَدْ حَازَهَا، فَكُنْتُ أَرَاهُ يُحَوِّى وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ أَوْ بِكِسَاءٍ، ثُمَّ يُرْدِفُهَا وَرَاءَهُ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَدَعَوْتُ رِجَالاً فَأَكَلُوا، وَكَانَ ذَلِكَ بِنَاءَهُ بِهَا ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ؛ قَالَ: هذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: اللهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ
مولانا داود راز
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدنا ابو طلحہ سے فرمایا کہ اپنے یہاں کے بچوں میں کوئی بچہ تلاش کر لاؤ جو میرے کام کر دیا کرے چنانچہ ابو طلحہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کہیں پڑاؤ کرتے میں آپ کی خدمت کرتا میں سنا کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعا پڑھا کرتے تھے اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم سے رنج سے عجز سے سستی سے بخل سے بزدلی سے قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے غلبہ سے (سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) پھر میں اس وقت سے برابر آپ کی خدمت کرتا رہا یہاں تک کہ ہم خیبر سے واپس ہوئے اور سیدہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پسند فرمایا تھا میں دیکھتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اپنی سواری پر پیچھے کپڑے سے پردہ کیا اور پھر انہیں وہاں بٹھایا آخر جب ہم مقام صہبا میں پہنچے تو آپ نے دستر خوان پر حیس (کھجور پنیر اور گھی وغیرہ کا ملیدہ) بنایا پھر مجھے بھیجا اور میں لوگوں کو بلا لایا پھر سب لوگوں نے اسے کھایا یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کی دعوت ولیمہ تھی پھر آپ روانہ ہوئے اور جب احد دکھائی دیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں اس کے بعد جب مدینہ نظر آیا تو فرمایا اے اللہ میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی علاقے کو اسی طرح حرمت والا علاقہ بناتا ہوں جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا شہر بنایا تھا اے اللہ اس کے رہنے والوں کو برکت عطا فرما ان کے مد میں اور ان کے صاع میں برکت فرما۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 864
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 70 كتاب الأطعمة: 28 باب الحيس»
حدیث نمبر: 865
865 صحيح حديث أَنَسٍ عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: قُلْتُ َلأنَسٍ أَحَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَالَ: نَعَمْ مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا، لاَ يُقْطَعُ شَجَرُهَا، مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِين قَالَ عَاصِمٌ: فَأَخْبَرَنِي مُوسى بْنُ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ، أَوْ آوَى مُحْدِثًا
مولانا داود راز
عاصم رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو حرمت والا شہر قرار دیا ہے؟ فرمایا کہ ہاں فلاں جگہ (عیر) سے فلاں جگہ (ثور) تک اس علاقہ کا درخت نہیں کاٹا جائے گا جس نے اس حدود میں کوئی نئی بات پیدا کی اس پر اللہ کے فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے عاصم نے کہا کہ پھر مجھے موسیٰ بن انس نے خبر دی کہ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ یا کسی نے دین میں بدعت پیدا کرنے والے کو پناہ دی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 865
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 96 كتاب الاعتصام: 6 باب إثم من آوى محدثا»
حدیث نمبر: 866
866 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ
مولانا داود راز
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ انکے پیمانوں میں برکت دے اے اللہ انہیں ان کے صاع اور مد میں برکت دے آپ کی مراد اہل مدینہ تھے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 866
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 53 باب بركة صاع النبي ومدهم»
حدیث نمبر: 867
867 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: اللهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا جَعَلْتَ بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ
مولانا داود راز
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ مکہ میں جتنی برکت عطا فرمائی ہے مدینہ میں اس سے دوگنی برکت کر۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 867
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 29 كتاب فضائل المدينة: 10 باب المدينة تنفي الخبث»
حدیث نمبر: 868
868 صحيح حديث عَلِيٍّ رضي الله عنه خَطَبَ عَلَى مِنْبَرٍ مِنْ آجُرٍّ وَعَلَيْهِ سَيْفٌ فِيهِ صَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا عِنْدَنَا مِنْ كِتَابٍ يُقْرَأُ إِلاَّ كِتَابُ اللهِ، وَمَا فِي هذِهِ الصَّحِيفَةِ فَنَشَرَهَا فَإِذَا فِيهَا: أَسْنَانُ الإِبِلِ؛ وَإِذَا فِيهَا: الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مِنْ عَيْرٍ إِلَى كَذَا، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً؛ وَإِذَا فِيهِ: ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً؛ وَإِذَا فِيهَا: مَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً
مولانا داود راز
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے اینٹ سے بنے ہوئے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا آپ تلوار لئے ہوئے تھے جس میں ایک صحیفہ لٹکا ہوا تھا آپ نے فرمایا واللہ ہمارے پاس کتاب اللہ کے سوا کوئی اور کتاب نہیں جسے پڑھا جائے اور سوائے اس صحیفہ کے پھر انہوں نے اسے کھولا تو اس میں دیت میں دئیے جانے والے اونٹوں کی عمروں کا بیان تھا (کہ دیت میں اتنی اتنی عمر کے اونٹ دئیے جائیں) اور اس میں یہ بھی تھا کہ مدینہ طیبہ کی زمین عیر پہاڑی سے ثور پہاڑی تک حرم ہے پس اس میں جو کوئی نئی بات (بدعت) نکالے گا اس پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی اللہ اس کی کسی فرض یا نفل عبادت کو قبول نہیں کرے گا اور اس میں یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کی ذمہ داری (عہد یا امان) ایک ہے اس کا ذمہ دار ان میں سب سے ادنی مسلمان بھی ہو سکتا ہے پس جس نے کسی مسلمان کا ذمہ توڑا اس پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی اللہ اس کی نہ فرض عبادت قبول کرے گا اور نہ نفل عبادت اور اس میں یہ بھی تھا کہ جس نے کسی سے اپنے والیوں کی اجازت کے بغیر ولاء کا رشتہ قائم کیا اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اللہ نہ اس کی فرض نماز قبول کرے گا نہ نفل۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 868
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 96 كتاب الاعتصام: 5 باب ما يكره من التعمق والتنازع في العلم والغلوّ في الدين والبدع»
حدیث نمبر: 869
869 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ بِالْمَدِينَةِ تَرْتَعُ مَا ذَعَرْتُهَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا بَيْنَ لابَتَيْهَا حَرَامٌ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے اگر میں مدینہ میں ہرن چرتے ہوئے دیکھوں تو انہیں کبھی نہ چھیڑوں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مدینہ کی زمین دونوں پتھریلے میدانوں کے بیچ میں حرم ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 869
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 29 كتاب فضائل المدينة: 4 باب لابتى المدينة»