کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: مکہ میں حاجیوں کے اترنے اور مکہ کے گھروں کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 857
857 صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيْنَ تَنْزِلُ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ فَقَالَ: وَهَلْ تَرَكَ عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ، وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ وَلاَ عَلِيٌّ شَيْئًا َلانَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ
مولانا داود راز
سیّدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ مکہ میں کیا اپنے گھر میں قیام فرمائیں گے؟ اس پر آپ نے فرمایا کہ عقیل نے ہمارے لئے محلہ یا مکان چھوڑا ہی کب ہے (سب فروخت کر کے برابر کر دئیے) عقیل اور طالب ابو طالب کے وارث ہوئے تھے سیّدنا جعفر اور سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو وراثت میں کچھ نہیں ملا تھا کیونکہ یہ دونوں مسلمان ہو گئے تھے اور عقیل (ابتداء میں) اور طالب اسلام نہیں لائے تھے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 857
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 44 باب توريث دور مكة وبيعها وشرائها»