کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: مشرک بیت اللہ کا حج نہ کرے اور برہنہ ہو کر بیت اللہ کا طواف نہ کیا جائے اور یوم حج اکبر کا بیان
حدیث نمبر: 854
854 صحيح حديث أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رضي الله عنه، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَن أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رضي الله عنه، بَعَثَهُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَوْمَ النَّحْرِ، فِي رَهْطٍ، يُؤَذِّنُ فِي النَّاسِ: أَلاَ لاَ يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس حج کے موقعہ پر جس کا امیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنایا تھا انہیں دسویں تاریخ کو ایک مجمع کے سامنے یہ اعلان کرنے کے لئے بھیجا تھا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج بیت اللہ نہیں کر سکتا اور نہ کوئی شخص ننگا رہ کر طواف کر سکتا ہے۔
وضاحت:
عہد جاہلیت میں عام اہل عرب یہ کہہ کر کہ ہم نے ان کپڑوں میں گناہ کئے ہیں، ان کو اتار دیتے پھر یا تو قریش سے کپڑے مانگ کر طواف کرتے یا پھر ننگے ہی طواف کرتے۔ اس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان کرایا۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 854
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في:25 كتاب الحج: 67 باب لا يطوف بالبيت عريان ولا يحج مشرك»