کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: سفر حج وغیرہ سے واپس آکر کیا دعا پڑھے
حدیث نمبر: 851
851 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ يُكَبِّرُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ مِنَ الأَرْضِ ثَلاَثَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ يَقُولُ: لاَ إِلهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ یا حج یا عمرہ سے واپس ہوتے تو زمین سے ہر بلند چیز پر چڑھتے وقت تین تکبیریں کہا کرتے تھے پھر دعا کرتے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اس کے لئے بادشاہی ہے اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے لوٹتے ہیں ہم توبہ کرتے ہوئے اپنے رب کی عبادت کرتے ہوئے اور حمد بیان کرتے ہوئے اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا تمام لشکر کو شکست دی۔
وضاحت:
بلندی پر چڑھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بلندی و بڑائی کو یاد رکھ کر نعرہ تکبیر بلند کرنا شان ایمانی ہے۔ ایسے عقیدہ و عمل والوں کو اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی بلندی دیتا ہے۔ لشکر کو شکست دینے کا اشارہ جنگ احزاب پر ہے جہاں کفار بڑی تعداد میں جمع ہوئے تھے مگر آخر میں خائب و خاسر ہوئے۔(راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 851
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 80 كتاب الدعوات: 52 باب الدعاء إذا أراد سفرًا أو رجع»