کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: حاجی کے لیے کعبہ کے اندر جانا، نماز اور دعا وغیرہ کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 838
838 صحيح حديث بِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ، فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ، وَمَكُثَ فِيهَا فَسَأَلْتُ بِلاَلاً حِينَ خَرَجَ: مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَمِينِهِ، وَثَلاَثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ، وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ، ثُمَّ صَلَّى
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی بھی آپ کے ساتھ تھے پھر عثمان نے کعبہ کا دروازہ بند کر دیا اور آپ اس میں ٹھہرے رہے جب آپ باہر نکلے تو میں نے بلال سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ آپ نے ایک ستون کو تو بائیں طرف چھوڑ اور ایک کو دائیں طرف اور تین کو پیچھے اور اس زمانہ میں خانہ کعبہ میں چھ ستون تھے پھر آپ نے نماز پڑھی۔
وضاحت:
راوي حدیث: موذن رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیّدنا بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت پر ابتداء ہی میں مسلمان ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا۔ یہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مکہ میں اپنا اسلام ظاہر کیا۔ مکہ والوں سے اسلام کے قبول کرنے پر بڑی اذیتیں اٹھائیں۔ بدر اور دیگر غزوات میں شریک رہے۔ لاولد رہے۔ آخری عمر میں شام میں رہائش اختیار کر لی تھی۔ ۲۰ ہجری میں تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔ ۴۴ احادیث کے راوی ہیں جن میں سے چار متفق علیہ ہیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 838
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 96 باب الصلاة بين السواري في غير جماعة»
حدیث نمبر: 839
839 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا وَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى خَرَجَ مِنْهُ؛ فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قِبَلِ الْكَعْبَةِ، وَقَالَ: هذِهِ الْقِبْلَةُ
مولانا داود راز
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے فرمایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تو اس کے چاروں کونوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور نماز نہیں پڑھی پھر جب باہر تشریف لائے تو دو رکعت نماز کعبہ کے سامنے پڑھی اور فرمایا کہ یہی قبلہ ہے ۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 839
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 30 باب قول الله تعالى (واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى»
حدیث نمبر: 840
840 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَهُ مَنْ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ قَالَ: لاَ
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو آپ نے کعبہ کا طواف کر کے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعات پڑھیں آپ کے ساتھ کچھ لوگ تھے جو آپ کے اور لوگوں کے درمیان آڑ بنے ہوئے تھے ان میں سے ایک صاحب نے ابن ابی اوفی سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے؟ تو انہوں نے بتایا کہ نہیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 840
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 53 باب من لم يدخل الكعبة»