کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: طواف وداع کے واجب ہونے اور حائضہ سے ساقط ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 835
835 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ، إِلاَّ أَنَّهُ خُفِّفَ عَنِ الْحَائِضِ
مولانا داود راز
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ لوگوں کو اس کا حکم تھا کہ ان کا آخری وقت بیت اللہ کے ساتھ ہو (یعنی طواف وداع کریں) البتہ حائضہ سے یہ معاف ہو گیا تھا۔
وضاحت:
یہ حدیث دلیل ہے کہ طواف وداع سوائے حائضہ کے ہر حاجی پر واجب ہے جب کہ حائضہ سے ساقط ہے اور اس کے ترک پر فدیہ(دینا) بھی لازم نہیں آئے گا۔(مرتبؒ)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 835
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 144 باب طواف الوداع»
حدیث نمبر: 836
836 صحيح حديث عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا، أَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ فَقَالُوا: بَلَى؛ قَالَ: فَاخْرُجِي
مولانا داود راز
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو (حج میں) حیض آ گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید کہ وہ ہمیں روکیں گی کیا انہوں نے تمہارے ساتھ طواف (زیارت) نہیں کیا؟ عورتوں نے جواب دیا کہ کر لیا ہے آپ نے اس پر فرمایا کہ پھر نکلو۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 836
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 6 كتاب الحيض: 27 باب المرأة تحيض بعد الإفاضة»
حدیث نمبر: 837
837 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ، فَقَالَتْ: مَا أُرَانِي إِلاَّ حَابِسَتَكُمْ؛ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَقْرَى حَلْقَى أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ قِيلَ: نَعَمْ قَالَ: فَانْفِرِى
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ مکہ سے روانگی کی رات سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ تھیں انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے میں ان لوگوں کے رکنے کا باعث بن جاؤں گی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا عقری حلقی کیا تو نے قربانی کے دن طواف الزیارۃ کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں کر لیا تھا آپ نے فرمایا کہ پھر چلو۔
وضاحت:
عقریٰ کا لفظی ترجمہ بانجھ اور حلقی کا سرمنڈی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازراہ محبت یہ لفظ استعمال فرمائے۔ یہ بول چال کا عام محاورہ ہے۔(راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 837
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 151 باب الإدلاج من المحصّب»