کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: ایام تشریق میں منیٰ میں رات گذارنا واجب لیکن حاجیوں کو پانی پلانے والوں کے لیے رخصت ہے
حدیث نمبر: 828
828 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضي الله عنه رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ
مولانا داود راز
سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (حاجیوں کو زمزم کا) پانی پلانے کے لئے منیٰ کے دنوں میں مکہ ٹھہرنے کی اجازت چاہی تو آپ نے ان کو اجازت دے دی۔
وضاحت:
ممنیٰ کی راتوں سے مراد گیارہ بارہ اور تیرہ ذی الحجہ کی راتیں ہیں۔(مرتبؒ)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 828
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 75 باب سقاية الحاج»