حدیث نمبر: 825
825 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّمَا كَانَ مَنْزِلٌ يَنْزِلُهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ، تَعْنِي بِالأَبْطَحِ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ سے کوچ کر کے یہاں محصب میں اس لئے اترے تھے تا کہ آسانی کے ساتھ وہاں سے مدینہ کو نکل سکیں آپ کی مراد ابطح میں اترنے سے تھی۔
حدیث نمبر: 826
826 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَيْسَ التَّحْصِيبُ بِشَيْءٍ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مولانا داود راز
سیّدنا ابن عباس نے بیان کیا کہ محصب میں اترنا حج کی کوئی عبادت نہیں ہے یہ تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کی جگہ تھی۔
حدیث نمبر: 827
827 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَدِ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ بِمِنًى: نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِى كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ يَعْنِى ذلِكَ الْمُحَصَّبَ وَذلِكَ أَنَّ قُرَيْشًا وَكِنَانَةَ تَحَالَفَتْ عَلَى بَنِى هَاشِمٍ وَبَنِى عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَوْ بَنِى الْمُطَّلِبِ، أَنْ لاَ يُنَاكِحُوهُمْ وَلاَ يُبَايِعُوهُمْ حَتَّى يُسْلِمُوا إِلَيْهِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ گیارہویں (ذی الحج) کی صبح کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں تھے تو یہ فرمایا تھا کہ کل ہم خیف بنی کنانہ میں قیام کریں گے جہاں قریش نے کفر کی حمایت کی قسم کھائی تھی آپ کی مراد محصب سے تھی کیونکہ یہیں قریش اور کنانہ نے بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب یا (راوی نے) بنو المطلب (کہا) کے خلاف حلف اٹھایا تھا کہ جب تک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالہ نہ کر دیں ان کے ہاں بیاہ شادی نہ کریں گے اور نہ ان سے خرید و فروخت کریں گے۔