کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: ضعیفوں اور عورتوں کو مزدلفہ سے سویرے روانہ کرنا مستحب
حدیث نمبر: 812
812 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: نَزَلْنَا الْمُزْدَلِفَةَ، فَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةُ أَنْ تَدْفَعَ قَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ، وَكَانَتْ امْرَأَةً بَطِيئَةً، فَأَذِنَ لَهَا؛ فَدَفَعَتْ قَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ، وَأَقَمْنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا نَحْنُ، ثُمَّ دَفَعْنَا بِدَفْعِهِ؛ فَلأَنْ أَكُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ ہم نے مزدلفہ میں قیام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین سودہ رضی اللہ عنہا کو لوگوں کے اژدھام سے پہلے روانہ ہونے کی اجازت دے دی تھی وہ بھاری بھر کم بدن کی خاتون تھیں اس لئے آپ نے اجازت دے دی چنانچہ وہ اژدھام سے پہلے روانہ ہو گئیں لیکن ہم لوگ وہیں ٹھیرے رہے اور صبح کو آپ کے ساتھ گئے اگر میں بھی سیدہ سودہ کی طرح آپ سے اجازت لیتی تو مجھ کو تمام خوشی کی چیزوں میں یہ بہت ہی پسند ہوتا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 812
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 98 باب من قدَّم ضعفة أهله بليل»
حدیث نمبر: 813
813 صحيح حديث أَسْمَاءَ عَنْ عَبْدِ اللهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّهَا نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمَعٍ عِنْدَ الْمُزْدَلِفَةِ، فَقَامَتْ تُصَلِّي، فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ: لاَ؛ فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ: هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَتْ: فَارْتَحِلُوا؛ فَارْتَحَلْنَا، وَمَضَيْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ، ثُمَّ رَجَعَتْ فَصَلَّتِ الصُّبْحَ فِي مَنْزِلِهَا فَقُلْتُ لَهَا يَا هَنْتَاهْ مَا أُرَانَا إِلاَّ قَدْ غَلَّسْنَا قَالَتْ: يَا بُنَيَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ
مولانا داود راز
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ سیدہ اسماء سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رات کی رات میں ہی مزدلفہ پہنچ گئیں اور کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگیں کچھ دیر تک نماز پڑھنے کے بعد پوچھا بیٹے کیا چاند ڈوب گیا؟ میں نے کہا کہ نہیں اس لئے وہ دوبارہ نماز پڑھنے لگیں کچھ دیر بعد پھر پوچھا کیا چاند ڈوب گیا؟ میں نے کہا ہاں انہوں نے کہا کہ اب آگے چلو (منی کو) چنانچہ ہم ان کے ساتھ آگے چلے وہ (منی میں) رمی جمرہ کرنے کے بعد پھر واپس آ گئیں اور صبح کی نماز اپنے ڈیرے پر پڑھی میں نے کہا جناب یہ کیا بات ہوئی کہ ہم نے اندھیرے ہی میں نماز صبح پڑھ لی؟ انہوں نے کہا بیٹے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اس کی اجازت دی ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 813
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 98 باب من قدم ضعفة أهله بليل»
حدیث نمبر: 814
814 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ
مولانا داود راز
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ میں ان لوگوں میں تھا جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے کمزور لوگوں کو مزدلفہ کی رات ہی میں منی بھیج دیا تھا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 814
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 98 باب من قدم ضعفة أهله بليل»
حدیث نمبر: 815
815 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، كَانَ يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ، فَيَقِفُونَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ بِلَيْلٍ، فَيَذْكُرُونَ اللهَ مَا بَدَا لَهُمْ، ثُمَّ يَرْجِعُونَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ الإِمَامُ وَقَبْلَ أَنْ يَدْفَعَ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ مِنًى لِصَلاَةِ الْفَجْرِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ بَعْدَ ذلِكَ، فَإِذَا قَدِمُوا رَمَوُا الْجَمْرَةَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، يَقُولُ: أَرْخَصَ فِي أُولئِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمااپنے گھر کے کمزوروں کو پہلے ہی بھیج دیا کرتے تھے اور وہ رات ہی میں مزدلفہ میں مشعر حرام کے پاس آ کر ٹھیرتے اور اپنی طاقت کے مطابق اللہ کا ذکر کرتے تھے پھر امام کے ٹھیرنے اور لوٹنے سے پہلے ہی (منی) آ جاتے تھے بعض تو منی فجر کی نماز کے وقت پہنچتے اور بعض اس کے بعد جب منی پہنچتے تو کنکریاں مارتے اور سیّدنا عبداللہ بن عمر فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب لوگوں کے لئے یہ اجازت دی ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 815
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 98 باب من قدم ضعفة أهله بليل»