کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: عرفات سے مزدلفہ لوٹنا اور اسی رات مغرب وعشاء جمع کرنا
حدیث نمبر: 807
807 صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: دَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ الصَّلاَةَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: الصَّلاَةُ أَمَامَكَ فَرَكِبَ، فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ، نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضوءَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاَة، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلَّى وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا
مولانا داود راز
سیّدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات سے واپس ہوئے۔ جب گھاٹی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتر گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پہلے) پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور خوب اچھی طرح نہیں کیا۔ تب میں نے کہا، یا رسول اللہ! نماز کا وقت (آ گیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز تمہارے آگے ہے (یعنی مزدلفہ چل کر پڑھیں گے) جب مزدلفہ میں پہنچے تو آپ نے خوب اچھی طرح وضو کیا، پھر جماعت کھڑی کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھی، پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنی جگہ بٹھلایا، پھر عشاء کی جماعت کھڑی کی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 807
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 6 باب إسباغ الوضوء»
حدیث نمبر: 808
808 صحيح حديث أُسَامَةَ عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا جَالِسٌ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ قَالَ: كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ
مولانا داود راز
عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا اور میں بھی وہیں موجود تھا کہ حجتہ الوداع کے موقعہ پر عرفات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واپس ہونے کی چال کیا تھی؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ پاؤں اٹھا کر چلتے تھے ذرا تیز لیکن جب جگہ پاتے (ہجوم نہ ہوتا) تو (زیادہ) تیز چلتے تھے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 808
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في:25 كتاب الحج: 92 باب السير إذا دفع من عرفة»
حدیث نمبر: 809
809 صحيح حديث أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ
مولانا داود راز
سیّدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں آن کر مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ملا کر پڑھا تھا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 809
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 96 باب من جمع بينهما ولم يتطوع»
حدیث نمبر: 810
810 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر سفر میں جلد چلنا منظور ہوتا تو مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔
وضاحت:
سفر میں ظہرو عصر اور مغرب و عشاء کا جمع کرنا اہلحدیث،امام احمد، امام شافعی، ثوریٰ اور اسحاق سب کے نزدیک جائز ہے۔ خواہ جمع تقدیم کرے یعنی ظہر کے وقت عصر اور مغرب کے وقت عشاء پڑھ لے خواہ جمع تاخیر کرے یعنی عصر کے وقت ظہر اور عشاء کے وقت مغرب پڑھ لے۔(راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 810
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 13 باب الجمع في السفر بين المغرب والعشاء»