کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: طواف میں حجر اسود کو بوسہ دینا مستحب ہے
حدیث نمبر: 799
799 صحيح حديث عُمَرَ رضي الله عنه، أَنَّهُ جَاءَ إِلَى الْحَجَرِ الأَسْوَدِ فَقَبَّلَهُ، فَقَالَ: إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنْفَعُ، وَلَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُقَبِّلَكَ مَا قَبَّلْتكَ
مولانا داود راز
سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ حجر اسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دیا اور فرمایا میں خوب جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے میں نہ دیکھتا تو میں بھی کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔
وضاحت:
اس روایت سے یہ واضح ہے کہ قبروں کی چوکھٹ چومنا یا قبروں کی زمین چومنا یا خود قبر کو چومنا یہ سب کام ناجائز ہیں۔ اور جاہلوں نے نکالے ہیں اور شرک ہیں۔ کیونکہ جن کی قبروں کو چومتے ہیں ان کو اپنے نفع نقصان کا مالک گردانتے ہیں اور ان کی دہائی دیتے ہیں اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں۔ لہٰذا شرک ہونے میں کیا کلام ہے؟ اگر کوئی خالص محبت سے چومے تو یہ بھی غلط اور بدعت ہو گا۔(راز) (بلکہ شرک کے دروازے کھولنے کے مترادف ہو گا)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 799
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 50 باب ما ذكر في الحجر الأسود»