کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: طواف عمرہ اور حج کے طواف اول میں رمل مستحب ہے
حدیث نمبر: 794
794 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ الطَّوَافَ الأَوَّلَ يَخُبُّ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ، وَيَمْشِي أَرْبَعَةً، وَأَنَّهُ كَانَ يَسْعَى بَطْنَ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کا پہلا طواف (یعنی طواف قدوم) کرتے تو اس کے تین چکروں میں آپ دوڑ کر چلتے اور چار میں معمول کے موافق چلتے پھر جب صفا اور مروہ کی سعی کرتے تو بطن مسیل (وادی) میں دوڑ کر چلتے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 794
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 63 باب من طاف بالبيت إذا قدم مكة قبل أن يرجع إلى بيته»
حدیث نمبر: 795
795 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ وَقَدْ وَهَنَهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ الثَّلاَثَةَ، وَأَنْ يَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، وَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلاَّ الإِبْقَاءُ عَلَيْهِمْ
مولانا داود راز
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ (عمرہ القضاء ۷ ھ میں) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ محمد آئے ہیں ان کے ساتھ ایسے لوگ آئے ہیں جنہیں یثرب (مدینہ منورہ) کے بخار نے کمزور کر دیا ہے اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل (تیز چلنا جس سے اظہار قوت ہو) کریں اور دونوں یمانی رکنوں کے درمیان حسب معمول چلیں اور آپ نے یہ حکم نہیں دیا کہ سب پھیروں میں رمل کریں اس لئے کہ ان پر آسانی ہو۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 795
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 55 باب كيف كان بدء الرمَل»
حدیث نمبر: 796
796 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّمَا سَعَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی اس طرح کی کہ مشرکین کو آپ اپنی قوت دکھلا سکیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 796
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 80 باب ما جاء في السعي بين الصفا والمروة»