کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: حج کے مہینوں میں عمرہ کے جائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 777
777 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَصْحَابُهُ لِصُبْحِ رَابِعَةٍ يُلَبُّونَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً، إِلاَّ مَنْ مَعَهُ الْهَدْيُ
مولانا داود راز
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو ساتھ لے کر تلبیہ کہتے ہوئے ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ کو (مکہ میں) تشریف لائے پھر آپ نے فرمایا کہ جن کے پاس ہدی نہیں ہے وہ بجائے حج کے عمرہ کی نیت کر لیں (اور عمرہ سے فارغ ہو کر حلال ہو جائیں پھر حج کا احرام باندھیں)۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 777
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 3 باب كم أقام النبي صلی اللہ علیہ وسلم في حجته»
حدیث نمبر: 778
778 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ نَصْرِ بْنِ عِمْرَانَ الضُّبَعِيِّ، قَالَ: تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَمَرَنِي، فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ رَجُلاً يَقُولُ لِي: حَجٌّ مَبْرُورٌ، وَعُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ، فَأَخْبَرْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: سُنَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي: أَقِمْ عِنْدِي فَأَجْعَلَ لَكَ سَهْمًا مِنْ مَالِي قَالَ شُعْبَةُ (الرَّاوِي عَنْهُ) ، فَقُلْتُ: لِمَ فَقَالَ: لِلرُّؤْيَا الَّتِي رَأَيْتُ
مولانا داود راز
ابو جمرہ نصر بن عمران ضبعی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا تو کچھ لوگوں نے مجھے منع کیا اس لئے میں نے سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے اس کے متعلق دریافت کیا آپ نے تمتع کرنے کے لئے کہا پھر میں نے خواب میں ایک شخص کو دیکھا کہ مجھ سے کہہ رہا ہے حج بھی مبرور ہوا اور عمرہ بھی مقبول ہوا میں نے یہ خواب سیّدنا ابن عباس کو سنایا تو آپ نے فرمایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے پھر فرمایا کہ میرے یہاں قیام کر میں اپنے پاس سے تمہارے لئے کچھ مقرر کر کے دیا کروں گا شعبہ (راوی) نے بیان کیا کیا کہ میں نے (ابو جمرہ سے) پوچھا کہ ابن عباس نے یہ کیوں کیا تھا؟ (یعنی مال کس بات پر دینے کے لئے کہا) انہوں نے بیان کیا کہ اسی خواب کی وجہ سے جو میں نے دیکھا تھا۔
وضاحت:
خواب کوئی شرعی حجت نہیں ہے مگر نیک لوگوں کے خواب جب شرعی امور کی تائید میں ہوں تو ان کے صحیح ہونے کا ظن غالب ہوتا ہے۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے حج تمتع کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بتلایا۔ سنت کے موافق تھوڑی سی عبادت بھی خلاف سنت بڑی سے بڑی عبادت سے زیادہ ثواب رکھتی ہے۔(راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 778
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 34 باب التمتع والإقران والإفراد بالحج»