کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: وقوف عرفہ کا بیان
حدیث نمبر: 764
764 صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَ عُرْوَةُ: كَانَ النَّاسُ يَطُوفُونَ فِي الْجَاهِلَيَّةِ عُرَاةً إِلاَّ الْحُمْسَ، وَالْحُمْسُ قُرَيْشٌ وَمَا وَلَدَتْ، وَكَانَتِ الْحُمْسُ يَحْتَسِبُونَ عَلَى النَّاسِ: يُعْطِي الرَّجُلُ الرَّجُلَ الثِّيَابَ يَطُوفُ فِيهَا، وَتُعْطِي الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ الثِّيَابَ تَطُوفُ فِيهَا، فَمَنْ لَمْ يُعْطِهِ الْحُمْسُ طَافَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانًا؛ وَكَانَ يُفِيضُ جَمَاعَةُ النَّاسِ مِنْ عَرَفَاتٍ، وَيُفِيضُ الْحُمْسُ مِنْ جَمْعٍ، وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ هذِهِ الآيَةَ نَزَلَتْ فِي الْحُمْسِ (ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ) قَالَ: كَانُوا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ فَدُفِعُوا إِلَى عَرَفَاتٍ
مولانا داود راز
حضرت عروہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ حمس کے سوا بقیہ سب لوگ جاہلیت میں ننگے ہو کر طواف کرتے تھے حمس قریش اور اس کی آل اولاد کو کہتے تھے اور لوگوں کو (خدا واسطے) کپڑے دیا کرتے تھے (قریش) کے مرد دوسرے مردوں کو تاکہ وہ انہیں پہن کر طواف کر سکیں اور (قریش) کی عورتیں دوسری عورتوں کو تا کہ وہ انہیں پہن کر طواف کر سکیں اور جن کو قریش کپڑا نہ دیتے وہ بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرتے دوسرے سب لوگ تو عرفات سے واپس ہوتے لیکن قریش مزدلفہ ہی سے (جو حرم میں تھا) واپس ہو جاتے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ یہ آیت قریش کے بارے میں نازل ہوئی کہ پھر تم بھی (قریش) وہیں سے واپس آؤ جہاں سے اور لوگ واپس آتے ہیں یعنی عرفات سے (سورہ بقرہ 199) انہوں نے بیان کیا کہ قریش مزدلفہ ہی سے لوٹ آتے تھے اس لئے انہیں بھی عرفات سے لوٹنے کا حکم ہوا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 764
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 91 باب الوقوف بعرفة»
حدیث نمبر: 765
765 صحيح حديث جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي، فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِعَرَفَةَ، فَقُلْتُ: هذَا وَاللهِ مِنَ الْحُمْسِ، فَمَا شَأْنُهُ ههُنَا
مولانا داود راز
سیّدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرا ایک اونٹ کھو گیا تو میں عرفات میں اس کو تلاش کرنے گیا یہ دن عرفات کا تھا میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات کے میدان میں کھڑے ہیں میری زبان سے نکلا، قسم اللہ کی! یہ تو قریش ہیں پھر یہ یہاں کیوں ہیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 765
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في:25 كتاب الحج: 91 باب الوقوف بعرفة»