کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: احرام کی قسموں کا بیان حج مفرد۔ تمتع اور قران اور عمرے کے ساتھ حج کو شامل کیا جا سکتا ہے اور قارن کے حلال ہونے کا وقت
حدیث نمبر: 755
755 صحيح حديث عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:38] فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لاَ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَميعًا فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: انْقُضِى رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِى وَأَهِلِّى بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ: هذِهِ مَكَانَ عُمْرَتِكِ قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوافًا وَاحِدًا بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى وَأَمَّا الَّذيِنَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوافًا وَاحِدًا
مولانا داود راز
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ ہم حجتہ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے پہلے ہم نے عمرہ کا احرام باندھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی ہو تو اسے عمرہ کے ساتھ حج کا بھی احرام باندھ لینا چاہئے ایسا شخص درمیان میں حلال نہیں ہو سکتا بلکہ حج اور عمرہ دونوں سے ایک ساتھ حلال ہو گا میں بھی مکہ آئی تھی اس وقت میں حائضہ ہو گئی اس لئے نہ بیت اللہ کا طواف کر سکی اور نہ صفا اور مروہ کی سعی میں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا تو آپ نے فرمایا کہ اپنا سر کھول ڈال کنگھا کر اور عمرہ چھوڑ کر حج کا احرام باندھ لے چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا پھر جب ہم حج سے فارغ ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر کے ساتھ تنعیم بھیجا میں نے وہاں سے عمرہ کا احرام باندھا (اور عمرہ ادا کیا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس عمرہ کے بدلے میں ہے (جسے تم نے چھوڑ دیا تھا) سیدہ عائشہ نے بیان کیا کہ جن لوگوں نے (حجتہ الوداع میں) صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ بیت اللہ کا طواف صفا اور مروہ کی سعی کر کے حلال ہو گئے پھر منی سے واپس ہونے پر دوسرا طواف (یعنی طواف الزیارۃ) کیا لیکن جن لوگوں نے حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا تھا انہوں نے صرف ایک ہی طواف کیا یعنی طواف الزیارۃ۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 755
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج 31 باب كيف تهل الحائض والنفساء»
حدیث نمبر: 756
756 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيُحْلِلْ، وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى فَلاَ يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ بِنَحْرِ هَدْيِهِ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ قالَتْ: فَحِضْتُ فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أُهْلِلْ إِلاَّ بِعُمْرَةٍ، فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي وَأَمْتَشِطَ وَأُهِلَّ بِحَجٍّ، وَأَتْرُكَ الْعُمْرَةَ، فَفَعَلْتُ ذلِكَ حَتَّى قَضَيْتُ حَجِّى؛ فَبَعَثَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ، مَكَانَ عُمْرَتِي، مِنَ التَّنْعِيمِ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجتہ الوداع کے سفر میں نکلے ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا پھر ہم مکہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور ہدی (قربانی کا جانور)ساتھ نہ لایا ہو تو وہ حلال ہو جائے اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور ہدی بھی ساتھ لایا ہو تو وہ ہدی کی قربانی سے پہلے حلال نہ ہو گا اور جس نے حج کا احرام باندھا ہو تو اسے حج پورا کرنا چاہئے سیدہ عائشہ نے کہا کہ میں حائضہ ہو گئی اور عرفہ کا دن آ گیا میں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں اپنا سر کھول لوں کنگھا کر لوں اور حج کا احرام باندھ لوں اور عمرہ چھوڑ دوں میں نے ایسا ہی کیا اور اپنا حج پورا کر لیا پھر میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو بھیجا اور مجھ سے فرمایا کہ میں اپنے چھوٹے ہوئے عمرہ کے عوض تنعیم سے دوسرا عمرہ کروں ۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 756
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 6 كتاب الحيض: 18 باب كيف تهل الحائض بالحج والعمرة»
حدیث نمبر: 757
757 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا لاَ نَرَى إِلاَّ الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، قَالَ: مَا لَكِ، أَنُفِسْتِ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: إِنَّ هذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِى مَا يَقْضِى الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ قَالَتْ: وَضَحَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ
مولانا داود راز
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ ہم حج کے ارادہ سے نکلے۔ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہوگئی اور اس رنج میں رونے لگی۔ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ نے پوچھا، تمہیں کیا ہوا؟ کیا حائضہ ہوگئی ہو؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ دیا ہے۔ اس لیے تم بھی حج کے افعال پورے کر لو۔ البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 757
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 6 كتاب الحيض: 1 باب كيف كان بدء الحيض»
حدیث نمبر: 758
758 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَحُرُمِ الْحَجِّ، فَنَزَلْنَا سَرِفَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ َلاصْحَابِهِ: مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلاَ وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ذَوِي قُوَّةٍ الْهَدْىُ، فَلَمْ تَكُنْ لَهُمْ عُمْرَةً، فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ قُلْتُ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ َلأصْحَابِكَ مَا قُلْتَ فَمُنِعْتُ الْعُمْرَةَ، قَالَ: وَمَا شَأْنُكِ قُلْتُ: لاَ أُصَلِّي قَالَ: فَلاَ يَضُرَّكِ، أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ، كُتِبَ عَلَيْكِ مَا كُتِبَ عَلَيْهِنَّ، فَكُونِي فِي حَجَّتِكِ، عَسى اللهُ أَنْ يَرْزُقَكِهَا قَالَتْ: فَكُنْتُ، حَتَّى نَفَرْنَا مِنْ مِنًى، فَنَزَلْنَا الْمُحَصَّبَ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمنِ، فَقَالَ: اخْرُجْ بِأخْتِكَ الْحَرَمَ، فَلْتَهِلَّ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ افْرُغَا مِنْ طَوَافِكمَا أَنْتَظِرْكُمَا ههُنَا فَأَتَيْنَا فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: فَرَغْتُمَا قُلْتُ: نَعَمْ فَنَادَى بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابِهِ، فَارْتَحَلَ النَّاسُ وَمَنْ طَافَ بِاللَّيْلِ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ خَرَجَ مُوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ
مولانا داود راز
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حج کے مہینوں اور آداب میں ہم حج کا احرام باندھ کر مدینہ سے چلے اور مقام سرف میں پڑاؤ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی نہ ہو اور وہ چاہے کہ اپنے حج کے احرام کو عمرہ سے بدل دے تو وہ ایسا کر سکتا ہے لیکن جس کے ساتھ قربانی ہے وہ ایسا نہیں کر سکتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعض مقدور (استطاعت) والوں کے ساتھ قربانی تھی اس لئے ان کا (احرام صرف) عمرہ کا نہیں رہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میں رو رہی تھی آپ نے دریافت فرمایا کہ رو کیوں رہی ہو؟ میں نے کہا آپ نے اپنے اصحاب سے جو کچھ فرمایا وہ میں سن رہی تھی اب تو میرا عمرہ ہو گیا آپ نے پوچھا کیا بات ہوئی؟ میں نے کہا کہ نماز نہیں پڑھ سکتی (حیض کی وجہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ کوئی حرج نہیں تو بھی آدم کی بیٹیوں میں سے ایک ہے اور جو ان سب کے مقدر میں لکھا ہے وہی تمہارا بھی مقدر ہے اب حج کا احرام باندھ لے شاید اللہ تعالیٰ تمہیں عمرہ بھی نصیب کرے (سیدہ عائشہ نے بیان کیا کہ میں نے حج کا احرام باندھ لیا پھر جب ہم (حج سے فارغ ہو کر اور) منی سے نکل کر محصب میں اترے تو آں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن کو بلایا اور ان سے کہا کہ اپنی بہن کو حد حرم سے باہر لے جا (تنعیم) تا کہ وہ وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ لیں پھر طواف و سعی کرو ہم تمہارا انتظار یہیں کریں گے ہم آدھی رات کو آپ کی خدمت میں پہنچے تو آپ نے پوچھا کیا فارغ ہو گئے؟ میں نے کہا ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اپنے اصحاب میں کوچ کا اعلان کر دیا بیت اللہ کا طواف وداع کرنے والے لوگ صبح کی نماز سے پہلے ہی روانہ ہو گئے اور مدینہ کی طرف چل دئیے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 758
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 26 كتاب العمرة: 9 باب المعتمر إذا طاف طواف العمرة ثم خرج هل يجزئه من طواف الوداع»
حدیث نمبر: 759
759 صحيح حديث عَائِشَةَ، خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلاَ نُرَى إِلاَّ أَنَّهُ الْحَجُّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ أَنْ يَحِلَّ، فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ فَأَحْلَلْنَ قَالَتْ عَائِشَةُ، فَحِضْتُ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ قَالَ: وَمَا طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَكَّةَ قُلْتُ: لاَ قَالَ: فَاذْهَبِى مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّى بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ مَوْعِدُكِ كَذَا وَكَذَا قَالَتْ صَفِيَّةُ: مَا أُرَانِي إِلاَّ حَابِسَتَهُمْ قَالَ: عَقْرَى حَلْقَى أَوَ مَا طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ، قُلْتُ: بَلَى قَالَ: لاَ بَأْسَ، انْفِرِى قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُصْعِدٌ مِنْ مَكَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهَا، أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ مُنْهَبِطٌ مِنْهَا
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ ہم حج کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہماری نیت حج کے سوا اور کچھ نہ تھی جب ہم مکہ پہنچے تو (اور لوگوں نے) بیت اللہ کا طواف کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا کہ جو قربانی اپنے ساتھ نہ لایا ہو وہ حلال ہو جائے چنانچہ جن کے پاس ہدی نہ تھی وہ حلال ہو گئے (افعال عمرہ کے بعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہدی نہیں لے گئی تھیں اس لئے انہوں نے بھی احرام کھول ڈالے سیدہ عائشہ نے کہا کہ میں حائضہ ہو گئی تھی اس لئے میں بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی (یعنی عمرہ چھوٹ گیا اور حج کرتی چلی گئی) جب محصب کی رات آئی میں نے کہا یا رسول اللہ اور لوگ تو حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں لیکن میں صرف حج کر سکی ہوں اس پر آپ نے پوچھا کیا جب ہم مکہ آئے تھے تو تم طواف نہ کر سکی تھیں؟ میں نے کہا کہ نہیں آپ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم تک چلی جا اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ (پھر عمرہ ادا کر) ہم لوگ تمہارا فلاں جگہ انتظار کریں گے اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ معلوم ہوتا ہے میں بھی آپ لوگوں کو روکنے کا سبب بن جاؤں گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سر منڈی کیا تو نے یوم نحر کا طواف نہیں کیا تھا؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں میں تو طواف کر چکی ہوں آپ نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں چل کوچ کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے کہا کہ پھر میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ مکہ سے جاتے ہوئے اوپر کے حصہ پر چڑھ رہے تھے اور میں نشیب میں اتر رہی تھی یا یہ کہا کہ میں اوپر چڑھ رہی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس چڑھاؤ کے بعد اتر رہے تھے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 759
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 34 باب التمتع والإقران والإفراد بالحج وفسخ الحج لمن لم يكن معه هدي»
حدیث نمبر: 760
760 صحيح حديث عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُرْدِفَ عَائِشَةَ وَيُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ
مولانا داود راز
سیّدنا عبدالرحمن بن ابی بکر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکو اپنے ساتھ سواری پر لے جائیں اور تنعیم سے انہیں عمرہ کرا لائیں۔
وضاحت:
راوي حدیث: سیّدنا عبدالرحمن بن ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو محمد تھی۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سگے بھائی تھے۔ جاہلیت میں ان کا نام عبدالکعبہ تھا۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل دیا تھا۔ سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ صلح حدیبیہ کے سال اسلام قبول کیا۔ آٹھ احادیث کے راوی ہیں جن میں سے تین متفق علیہ ہیں۔ ۵۸ہجری کو وفات پائی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 760
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 26 كتاب العمرة: 6 باب عمرة التنعيم»
حدیث نمبر: 761
761 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ عَطَاءٍ؛ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، فِي أُنَاسٍ مَعَهُ، قَالَ: أَهْلَلْنَا، أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ عُمْرَةٌ قَالَ عَطَاءٌ، قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحَجَّةِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّ، وَقَالَ: أَحِلُّوا وَأَصِيبُوا مِنَ النِّسَاءَ قَالَ عَطَاءٌ، قَالَ جَابِرٌ وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ، وَلكِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ؛ فَبَلَغَهُ أَنَّا نَقُولُ: لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلاَّ خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ إِلَى نِسَائِنَا، فَنَأْتِي عَرَفَةَ تَقْطُر مَذَاكِيرُنَا الْمَذْيَ قَالَ، وَيَقُولَ جَابِرٌ، بِيَدِهِ هكَذَا، وَحَرَّكَهَا؛ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ للهِ وَأَصْدَقُكُمْ وَأَبَرُّكُمْ، وَلَوْلاَ هَدْيِي لَحَلَلْتُ كَمَا تَحِلُّونَ، فَحِلُّوا فَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِى مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ فَحَلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا
مولانا داود راز
عطاء نے بیان کیا کہ سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ۴ذی الحجہ کی صبح کو آئے اور جب ہم بھی حاضر ہوئے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم حلال ہو جائیں۔ اور آپ نے فرمایا کہ حلال ہو جاؤ اور اپنی بیویوں کے پاس جاؤ، عطاء نے بیان کیا کہ سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر یہ ضروری نہیں قرار دیا بلکہ صرف حلال کیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ ’’ہم میں یہ بات ہو رہی ہے کہ عرفہ پہنچنے میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں۔ اور پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کا حکم دیا ہے۔ کیا ہم عرفات اس حالت میں جائیں کہ مذی یا منی ہمارے ذکر سے ٹپک رہی ہو۔‘‘ عطاء نے کہا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ کو ہلاتے ہوئے اشارہ کیا کہ اس طرح مذی ٹپک رہی ہو۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ’’تمہیں معلوم ہے کہ میں تم میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، تم میں سب سے زیادہ سچا ہوں اور سب سے زیادہ نیک ہوں۔ اگر میرے پاس ہدی (قربانی کا جانور) نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہو جاتا۔ پس تم بھی حلال ہو جاؤ۔ اگر مجھے وہ بات پہلے سے معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا۔‘‘ چنانچہ ہم حلال ہوگئے اور ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی اور آپ کی اطاعت کی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 761
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 96 كتاب الاعتصام: 17 باب نهى النبي صلی اللہ علیہ وسلم على التحريم، إلا ما تعرف إباحته»
حدیث نمبر: 762
762 صحيح حديث جَابِرٍ، قَالَ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنه بِسِعَايَتِهِ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِمَ أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ قَالَ: بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ قَالَ، وَأَهْدَى لَهُ عَلِيٌّ هَدْيًا
مولانا داود راز
سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے (جب وہ یمن سے مکہ آئے) فرمایا تھا کہ وہ اپنے احرام پر باقی رہیں سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا سیّدنا علی رضی اللہ عنہ پنی ولایت (یمن) سے آئے تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا علی تم نے احرام کس طرح باندھا ہے؟ عرض کیا جس طرح احرام آپ نے باندھا ہو فرمایا پھر قربانی کا جانور بھیج دو اور جس طرح احرام باندھا ہے اسی کے مطابق عمل کرو (سیّدنا جابر نے) کہا کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قربانی کے جانور لائے تھے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 762
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازى: 61 باب بعث علي ابن أبي طالب عليه السلام وخالد بن الوليد رضى الله عنه إلى اليمن قبل حجة الوداع»
حدیث نمبر: 763
763 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ وَأَصْحَابَهُ بِالْحَجِّ، وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ هَدْىٌ، غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ وَكَانَ عَلِيٌّ قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ وَمَعَهُ الْهَدْيُ، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لأَصْحَابِهِ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً، يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ، ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا، إِلاَّ مَنْ مَعَهُ الْهَدْيُ، فَقَالُوا نَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِى مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، وَلَوْلاَ أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لأَحْلَلْتُ وَأَنَّ عَائِشَةَ حَاضَتْ، فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا، غَيْرَ أَنَّهَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ؛ قَالَ: فَلَمَّا طَهُرَتْ وَطَافَتْ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتَنْطَلِقُونَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحَجَّة وَأَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ لَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْعَقَبَةِ وَهُوَ يَرْمِيهَا، فَقَالَ: أَلَكُمْ هذِهِ خَاصَّةً يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: لاَ، بَلْ لِلأَبَدِ
مولانا داود راز
سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے حج کا احرام باندھا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیّدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی کے ساتھ قربانی نہیں تھی ان ہی دنوں میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو ان کے ساتھ بھی قربانی تھی انہوں نے کہا کہ جس چیز کا احرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے میرا بھی احرام وہی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو (مکہ میں پہنچ کر) اس کی اجازت دی تھی کہ اپنے حج کو عمرہ میں تبدیل کریں اور بیت اللہ کا طواف (اور صفا مروہ کی سعی) کر کے بال ترشوا لیں اور احرام کھول دیں لیکن وہ لوگ ایسا نہ کریں جن کے ساتھ قربانی ہو اس پر لوگوں نے کہا کہ ہم منی سے حج کے لئے اس طرح سے جائیں گے کہ ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہو یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا جو بات اب ہوئی اگر پہلے سے معلوم ہوتی تو میں اپنے ساتھ ہدی نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو (افعال عمرہ ادا کرنے کے بعد) میں بھی احرام کھول دیتا سیدہ عائشہ (اس حج میں) حائضہ ہو گئی تھیں اس لئے انہوں نے اگرچہ تمام مناسک ادا کئے لیکن بیت اللہ کا طواف نہیں کیا پھر جب وہ پاک ہو گئیں اور طواف کر لیا تو عرض کی یا رسول اللہ سب لوگ حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں لیکن میں صرف حج کر سکی ہوں آپ نے اس پر عبدالرحمن بن ابی بکر سے کہا کہ انہیں ہمراہ لے کر تنعیم جائیں اور عمرہ کرا لائیں یہ عمرہ حج کے بعد ذی الحجہ کے ہی مہینہ میں ہوا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جمرہ عقبہ کی رمی کر رہے تھے تو مالک بن جعشم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا یا رسول اللہ کیا یہ (عمرہ اور حج کے درمیان احرام کھول دینا) صرف آپ ہی کے لئے ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحج / حدیث: 763
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 26 كتاب العمرة: 6 باب عمرة التنعيم»