حدیث نمبر: 749
749 صحيح حديث كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رضي الله عنه، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ: لَعَلَّكَ آذاكَ هَوَامُّكَ قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْلِقْ رَأْسَكَ، وَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ بِشَاةٍ
مولانا داود راز
سیّدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے مجھ سے فرمایا غالباً جوؤں سے تم کو تکلیف ہے؟ میں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ آپ نے فرمایا کہ پھر سر منڈا لے اور تین دن کے روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا ایک بکری ذبح کر۔
حدیث نمبر: 750
750 صحيح حديث كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي هذَا الْمَسْجِدِ، يَعْنِي مَسْجِدَ الْكُوفَةِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ (فِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ) فَقَالَ: حُمِلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ: مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْجَهْدَ قَدْ بَلَغَ بِكَ هذَا، أَمَا تَجِدُ شَاةً قُلْتُ: لاَ، قَالَ: صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ، وَاحْلِقْ رَأْسَكَ فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً، وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةً
مولانا داود راز
عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اس مسجد میں حاضر ہوا ان کی مراد کوفہ کی مسجد سے تھی اور ان سے روزے کے فدیہ کے متعلق پوچھا انہوں نے بیان کیا کہ لوگ مجھے احرام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے اور جوئیں (سر سے) میرے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فرمایا کہ میرا خیال یہ نہیں تھا کہ تم اس حد تک تکلیف میں مبتلا ہو گئے ہو تم کوئی بکری نہیں مہیا کر سکتے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں فرمایا پھر تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو ہر مسکین کو آدھا صاع کھانا کھلانا اور اپنا سر منڈوا لو کعب نے کہا تو یہ آیت خاص میرے بارے میں نازل ہوئی تھی اور اس کا حکم تم سب کے لئے عام ہے۔