حدیث نمبر: 742
742 صحيح حديث الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِمَارًا وَحْشِيًّا، وَهُوَ بِالأَبْوَاءِ، أَوْ بِوَدَّانَ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وَجْهِهِ، قَالَ: إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ إِلاَّ أَنَّا حُرُمٌ
مولانا داود راز
سیّدنا صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ جب ابواء یا ودان میں تھے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک گورخر کا تحفہ دیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا تھا پھر جب آپ نے ان کے چہروں پر ناراضگی کا رنگ دیکھا تو آپ نے فرمایا کہ واپسی کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں۔
وضاحت:
راوي حدیث: سیّدنا صعب بن جثامہ اللیثی رضی اللہ عنہ بواء مقام کی بستی ودان کے رہائشی تھے۔اصطخرکی فتح میں شریک تھے۔ مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وفات پائی۔ ایک قول کے مطابق خلافت عثمان رضی اللہ عنہ یں وفا ت پائی۔
حدیث نمبر: 743
743 صحيح حديث أَبِي قَتَادَةَ رضي الله عنه، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقَاحَةِ، وَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَمِنَّا غَيْرُ الْمُحْرِمِ، فَرَأَيْتُ أَصْحَابِي يَتَرَاءَوْنَ شَيْئًا، فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ، يَعْنِي؛ فَوَقَعَ سَوْطُهُ، فَقَالُوا لاَ نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ إِنَّا مُحْرِمُونَ، فَتَنَاوَلْتُهُ فَأَخَذْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ الْحِمَارَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ فَعَقَرْتُهُ، فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِي، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: كُلُوا وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لاَ تَأْكُلُوا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ أَمَامَنَا فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: كُلُوهُ، حَلاَلٌ
مولانا داود راز
سیّدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام قاحہ میں تھے بعض تو ہم میں سے محرم تھے اور بعض غیر محرم میں نے دیکھا کہ میرے ساتھی ایک دوسرے کو کچھ دکھا رہے ہیں میں نے جو نظر اٹھائی تو ایک گورخر (جنگلی گدھا) سامنے تھا ان کی مراد یہ تھی کہ ان کا کوڑا گر گیا (اور اپنے ساتھیوں سے اسے اٹھانے کے لئے انہوں نے کہا) لیکن ساتھیوں نے کہا کہ ہم تمہاری کچھ بھی مدد نہیں کر سکتے کیوں کہ ہم محرم ہیں اس لئے میں نے وہ خود اٹھا لیا اس کے بعد میں اس گورخر کے نزدیک ایک ٹیلے کے پیچھے سے آیا اور اسے شکار کیا پھر میں اسے اپنے ساتھیوں کے پاس لایا بعض نے تو یہ کہا کہ وہ (ہمیں بھی) کھا لینا چاہیے لیکن بعض نے کہا کہ نہ کھانا چاہیے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا آپ ہم سے آگے تھے میں نے آپ سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے بتایا کہ کھا لو یہ حلال ہے۔
وضاحت:
بظاہر اس حدیث میں محسوس ہوتا ہے کہ کچھ عبارت نا تمام ہے لیکن یہاں لفظ اسی طرح ہیں۔ اس حدیث کو ابو عوانہ نے ابو داؤد الحرانی سے اور انہوں نے علی بن المدینی سے ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے کہ’’ اچانک ایک جنگلی گدھا(زیبرا) دیکھا تو میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور نیزہ اور کوڑا اٹھایا۔ کوڑا مجھ سے گر پڑا تو میں نے کہا مجھے پکڑاؤ،، جبکہ صحیح بخاری میں ایک دوسرے مقام (کتاب الہبۃ باب من استوہب من أصحابہ شیئا)پر یوں ہے کہ’’ میں کوڑا اور نیزہ بھول گیا میں نے ساتھیوں سے کہا کہ مجھے کوڑا اور نیزہ پکڑاؤ،، اور صحیح مسلم میں اس مقام پر لفظ یوں ہیں ’’ میں نے اپنے گھوڑے پر زین ڈالی اور اپنا نیزہ پکڑا پھر سوار ہوا تو میرا کوڑا مجھ سے گر گیا میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا جو کہ احرام میں تھے مجھے کوڑا پکڑاؤ،، تمام روایات کو ملانے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صحابی پہلے جب گھوڑے پر سوار ہوئے تو اپنا کوڑا اور نیزہ جلدی کی وجہ سے بھول گئے پھر جب یہ اشیاء اٹھا کر سوار ہوئے تو کوڑا گر گیا تھا۔
حدیث نمبر: 744
744 صحيح حديث أَبِي قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: انْطَلَقَ أَبِي، عَامَ الحُدَيْبِيَةِ، فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ وَحُدِّثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ عَدُوًّا يَغْزُوهُ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِهِ، تَضَحَّكَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَطَعَنْتُهُ فَأَثْبَتُّهُ، وَاسْتَعَنْتُ بِهِمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُوني، فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ، وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ، فَطَلَبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ شَأْوًا، فَلَقِيت رَجُلاً مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ؛ قُلْتُ: أَيْنَ تَرَكْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَرَكْتُهُ بِتَعْهنَ، وَهُوَ قَايِلٌ السُّقْيَا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَهْلَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلاَمَ وَرَحْمَةَ اللهِ، إِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ فَانْتَظِرْهُمْ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ وَعِنْدِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: كُلُوا وَهُمْ مُحْرِمُونَ
مولانا داود راز
عبداللہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میرے والد (سیّدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ) صلح حدیبیہ کے موقعہ پر (دشمنوں کا پتہ لگانے) نکلے پھر ان کے ساتھیوں نے تو احرام باندھ لیا لیکن (خود انہوں نے ابھی) نہیں باندھا تھا (اصل میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نے یہ اطلاع دی تھی کہ (مقام غیقہ میں) دشمن آپ کی تاک میں ہے اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابوقتادہ اور چند صحابہ کو ان کی تلاش میں) روانہ کیا میرے والد (ابوقتاد رضی اللہ عنہ ) اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھے کہ یہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر ہنسنے لگے (میرے والد نے بیان کیا کہ) میں نے جو نظر اٹھائی تو دیکھا کہ ایک جنگلی گدھا سامنے ہے میں اس پر جھپٹا اور نیزے سے اسے ٹھنڈا کر دیا میں نے اپنے ساتھیوں کی مدد چاہی تھی لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا پھر ہم نے گوشت کھایا اب ہمیں یہ ڈر ہوا کہ کہیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) دور نہ رہ جائیں چنانچہ میں نے آپ کو تلاش کرنا شروع کر دیا کبھی اپنے گھوڑے تیز کر دیتا اور کبھی آہستہ آخر رات گئے بنو غفار کے ایک شخص سے ملاقات ہو گئی میں نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ اس نے بتایا کہ جب میں آپ سے جدا ہوا تو آپ مقام تعھن میں تھے اور آپ کا ارادہ تھا کہ مقام سقیا میں پہنچ کر دوپہر کا آرام کریں گے (غرض میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا) اور میں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ کے اصحاب آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت بھیجتے ہیں انہیں یہ ڈر ہے کہ کہیں وہ بہت پیچھے نہ رہ جائیں اس لئے آپ ٹھہر کر ان کا انتظار کریں پھر میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ایک جنگلی گدھا شکار کیا تھا اور اس کا کچھ بچا ہوا گوشت اب بھی میرے پاس موجود ہے آپ نے لوگوں سے کھانے کے لئے فرمایا حالانکہ وہ سب محرم تھے۔
حدیث نمبر: 745
745 صحيح حديث أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حَاجًّا، فَخَرَجُوا مَعَهُ، فَصَرَفَ طَائِفَةً مِنْهُمْ، فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ؛ فَقَالَ: خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّى نَلْتَقِيَ فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا أَحْرَمُوا كُلُّهُمْ، إِلاَّ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ؛ فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ، فَحَمَلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى الْحُمُرِ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلُوا فأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهَا، وَقَالُوا: أَنَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ الأَتَانِ، فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا أَحْرَمْنَا، وَقَدْ كَانَ أبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ، فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ، فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ، فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا، ثُمَّ قُلْنَا: أَنَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَحَمَلْنَا مَا بَقي مِنْ لَحْمِهَا، قَالَ: مِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا قَالُوا: لاَ قَالَ: فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا
مولانا داود راز
سیّدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (حج کا) ارادہ کر کے نکلے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی آپ کے ساتھ تھے آپ نے صحابہ کی ایک جماعت کو جس میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے یہ ہدایت دے کر راستے سے واپس بھیجا کہ تم لوگ دریا کے کنارے کنارے ہو کر جاؤ (اور دشمن کا پتہ لگاؤ) پھر ہم سے آ ملو چنانچہ یہ جماعت دریا کے کنارے کنارے چلی واپسی میں سب نے احرام باندھ لیا تھا لیکن ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ابھی احرام نہیں باندھا تھا یہ قافلہ چل رہا تھا کہ کئی گورخر دکھائی دئیے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کیا اور ایک مادہ کا شکار کر لیا پھر ایک جگہ ٹھہر کر سب نے اس کا گوشت کھایا اور ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ کیا ہم محرم ہونے کے باوجود شکار کا گوشت کھا بھی سکتے ہیں؟ چنانچہ جو کچھ گوشت بچا وہ ہم ساتھ لائے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو عرض کی یا رسول اللہ ہم سب لوگ تو محرم تھے لیکن ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا تھا پھر ہم نے گورخر دیکھے اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر کے ایک مادہ کا شکار کر لیا اس کے بعد ایک جگہ ہم نے قیام کیا اور اس کا گوشت کھایا پھر خیال آیا کہ کیا ہم محرم ہونے کے باوجود شکار کا گوشت کھا بھی سکتے ہیں؟ اس لئے جو کچھ گوشت باقی بچا ہے وہ ہم ساتھ لائے ہیں آپ نے پوچھا کیا تم میں سے کسی نے ابوقتادہ کو شکار کرنے کے لئے کہا تھا؟ یا کسی نے اس شکار کی طرف اشارہ کیا تھا؟ سب نے کہا کہ نہیں اس پر آپ نے فرمایا کہ پھر بچا ہوا گوشت بھی کھا لو۔