کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: رمضان کے آخری عشرہ میں زیادہ عبادت کرنی چاہیے
حدیث نمبر: 730
730 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهُ وَأَحْيَا لَيْلَهُ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ جب (رمضان کا) آخری عشرہ آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا تہبند مضبوط باندھتے (یعنی اپنی کمر پوری طرح کس لیتے) اور ان راتوں میں آپ خود بھی جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگایا کرتے تھے۔
وضاحت:
کمر کس لینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس عشرہ میں عبادت الٰہی کے لیے خاص محنت کرتے۔ خود جاگتے، گھر والوں کو جگاتے اور رات بھر عبادت الٰہی میں مشغول رہتے۔(راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الاعتكاف / حدیث: 730
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 32 كتاب فضل ليلة القدر: 5 باب العمل في العشر الأواخر من رمضان»