حدیث نمبر: 561
561 صحيح حديث عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ
مولانا داود راز
سیّدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ اور کھڑے رہو یہاں تک کہ جنازہ تم سے آگے نکل جائے۔
حدیث نمبر: 562
562 صحيح حديث عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ جَنَازَةً، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا، فَلْيَقُمْ حَتَّى يُخَلِّفَهَا أَوْ تخَلِّفهُ أَوْ تَوضَعَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُخَلِّفَهُ
مولانا داود راز
سیّدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جنازہ دیکھے تو اگر اس کے ساتھ نہیں چل رہا تو کھڑا ہی ہو جائے تا آنکہ جنازہ آگے نکل جائے یا آگے جانے کی بجائے خود جنازہ رکھ دیا جائے۔
حدیث نمبر: 563
563 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا، فَمَنْ تَبِعَهَا فَلاَ يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ
مولانا داود راز
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم لوگ جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ اور جو شخص جنازہ کے ساتھ چل رہا ہو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ نہ رکھ دیا جائے۔
حدیث نمبر: 564
564 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: مَرَّتْ بِنَا جَنَازَةٌ، فَقَامَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقُمْنَا بِهِ، فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ، قَالَ: إِذَا رأَيْتُمُ الْجِنَازَةَ فَقُومُوا
مولانا داود راز
سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمارے سامنے سے ایک جنازہ گذرا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ہم بھی کھڑے ہو گئے پھر ہم نے کہا کہ یا رسول اللہ یہ تو یہودی کا جنازہ تھا آپ نے فرمایا کہ جب تم لوگ جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو۔
حدیث نمبر: 565
565 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كَانَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ وَقَيْسُ بْنُ سَعْدٍ قَاعِدَيْنِ بِالْقَادِسِيَّةِ، فَمَرُّوا عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ فَقَامَا، فَقِيلَ لَهُمَا إِنَّهَا مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ، أَيْ مِنْ أَهْلِ الذمَّةِ؛ فَقَالاَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ، فَقَالَ: أَلَيْسَتْ نَفْسًا
مولانا داود راز
عبدالرحمن بن ابی لیلی بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا سہل بن حنیف اور سیّدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ قادسیہ میں کسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں کچھ لوگ ادھر سے ایک جنازہ لے کر گذرے تو یہ دونوں بزرگ کھڑے ہو گئے عرض کیا گیا کہ جنازہ تو ذمیوں کا ہے (جو کافر ہیں) اس پر انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اسی طرح سے ایک جنازہ گذرا تھا آپ اس کے لئے کھڑے ہو گئے پھر آپ سے کہا گیا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ تھا آپ نے فرمایا کیا یہودی کی جان نہیں ہے؟
وضاحت:
٭ سیّدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نصاری اوسی ہیں۔ غزوہ بدر اور دیگر غزوات میں شامل رہے۔ احد میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے۔ مدینہ میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے نائب کی حیثیت سے کام کیا۔ متعدد احادیث کے راوی ہیں۔ ۳۸ ھ میں کوفہ میں انتقال کیا۔