کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: قبر پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 559
559 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَأَمَّهُمْ وَصَفُّوا عَلَيْهِ فَقُلْتَ يَا أَبَا عَمْرٍو: مَنْ حَدَّثَكَ فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ
مولانا داود راز
سلیمان شیبانی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں حضرت شعبی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی جو (ایک مرتبہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک اکیلی الگ تھلگ ٹوٹی ہوئی قبر پر سے گذر رہے تھے وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھے ہوئے تھے سلیمان نے کہا کہ میں نے شعبی سے پوچھا کہ ابو عمرو آپ سے یہ کس نے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنائز / حدیث: 559
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 161 باب وضوء الصبيان ومتى يجب عليهم الغسل والطهور وحضورهم الجماعة»
حدیث نمبر: 560
560 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ أَسْوَدَ، رَجُلاً أَوِ امْرَأَةً، كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ، فَمَاتَ، وَلَمْ يَعْلَمِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْتِهِ، فَذَكَرَهُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ ذَلِكَ الإِنْسَانُ قَالُوا: مَاتَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: أَفَلاَ آذَنْتُمُونِي فَقَالُوا: إِنَّهُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، قِصَّتَهُ؛ قَالَ: فَحَقَرُوا شَأْنَهُ قَالَ: فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کالے رنگ کا ایک مرد یا کالی عورت مسجد کی خدمت کیا کرتی تھی اس کی وفات ہو گئی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی وفات کی خبر کسی نے نہ دی ایک دن آپ نے خود یاد فرمایا کہ وہ شخص دکھائی نہیں دیتا صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ اس کا تو انتقال ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم نے مجھے خبر کیوں نہیں دی؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ یہ وجہ تھی(اس لئے آپ کو تکلیف نہیں دی گئی) گویا لوگوں نے اس کو حقیر جان کر قابل توجہ نہیں سمجھا لیکن آپ نے فرمایا کہ چلو مجھے اس کی قبر بتا دو چنانچہ آپ اس کی قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز جنازہ پڑھی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنائز / حدیث: 560
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 67 باب الصلاة على القبر بعد ما يدفن»