کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: نماز جنازہ میں تکبیروں کا بیان
حدیث نمبر: 555
555 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ نَعَى النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نجاشی کی وفات کی اسی دن خبر دے دی تھی جس دن اس کا انتقال ہوا تھا آپ نماز پڑھنے کی جگہ تشریف لے گئے پھر صف بندی کر کے چار تکبیریں کہیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنائز / حدیث: 555
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 4 باب الرجل ينعى إلى أهل الميت بنفسه»
حدیث نمبر: 556
556 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: نَعَى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ، صَاحِبَ الْحَبَشَةِ، الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا َلأخِيكُمْ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حبشہ کے نجاشی کی وفات کی خبر دی اسی دن جس دن اس کا انتقال ہوا تھا آپ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے لئے خدا سے مغفرت چاہو۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنائز / حدیث: 556
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 61 باب الصلاة على الجنائز بالمصلى والمسجد»
حدیث نمبر: 557
557 صحيح حديث جَابِرٍ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيِّ، فَكَبَّرَ أَرْبَعًا
مولانا داود راز
سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحمہ نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی تو چار تکبیریں کہیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنائز / حدیث: 557
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 65 باب التكبير على الجنازة أربعاً»
حدیث نمبر: 558
558 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ تُوُفِّيَ الْيَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ مِنَ الْحَبَشِ، فَهَلُمَّ فَصَلُّوا عَلَيْهِ قَالَ: فَصَفَفْنَا، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ، وَنَحْنُ صُفُوفٌ
مولانا داود راز
سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج حبش کے ایک مرد صالح (نجاشی حبش کا بادشاہ) کا انتقال ہو گیا ہے آؤ اس کی نماز جنازہ پڑھو سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم نے صف بندی کر لی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور ہم صف باندھے کھڑے تھے۔
وضاحت:
ان احادیث سے میت غائب پر نماز جنازہ غائبانہ پڑھنا ثابت ہوا۔امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ اور اکثر سلف کا یہی قول ہے۔ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی صحابی سے اس کی ممانعت ثابت نہیں۔(راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنائز / حدیث: 558
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 55 باب الصفوف على الجنازة»