کتب حدیث ›
اللؤلؤ والمرجان › ابواب
› باب: جنازہ کے ساتھ جانے اور جنازہ کی نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 551
551 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى يُصَلِّي عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَ حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ، قِيلَ: وَمَا الْقيرَاطَانِ قَالَ: مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعظيمَيْنِ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جنازہ میں شرکت کی پھر نماز جنازہ پڑھی تو اسے ایک قیراط کا ثواب ملتا ہے اور جو دفن تک ساتھ رہا تو اسے دو قیراط کا ثواب ملتا ہے پوچھا گیا کہ دو قیراط کتنے ہوں گے؟ فرمایا کہ دو عظیم پہاڑوں کے برابر (یعنی دنیا کا قیراط مت سمجھو جو درہم کا بارہواں حصہ ہوتا ہے دوسری روایت میں ہے کہ آخرت کے قیراط احد پہاڑ کے برابر ہیں)
حدیث نمبر: 552
552 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ حَدَّثَ ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رضي الله عنه يَقُولُ: مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَقَالَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَيْنَا، فَصَدَّقَتْ، يَعْنِي عَائِشَةَ أَبَا هُرَيْرَةَ؛ وَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ؛ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثيرَةٍ
مولانا داود راز
سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے کہا کہ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جو دفن تک جنازہ کے ساتھ رہے اسے ایک قیراط کا ثواب ملے گا پھر سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے فرمایا کہ ابوہریرہ احادیث بہت زیادہ بیان کرتے ہیں پھر سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بھی تصدیق کی اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد خود سنا ہے اس پر سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے کہا کہ پھر تو ہم نے بہت سے قیراطوں کا نقصان اٹھایا۔