کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: میت کو غسل دینے کا بیان
حدیث نمبر: 544
544 صحيح حديث أُمَّ عَطِيَّةَ الأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذلِكَ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذلِكَ، بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي فَلَمَّا اذنَّاهُ، فَأَعْطَانَا حَقْوَهُ فَقَالَ: أَشْعرْنَهَا إِيَّاهُ تَعْنِي إِزَارَهُ
مولانا داود راز
سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی (زینب یا ام کلثوم رضی اللہ عنہما) کی وفات ہوئی آپ وہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ دے سکتی ہو غسل کے پانی میں بیری کے پتے ملا لو اور آخر میں کافور یا (یہ کہا کہ) کچھ کافور کا استعمال کر لینا اور غسل سے فارغ ہونے پر مجھ خبر دینا چنانچہ ہم نے جب غسل دے لیا تو آپ کو خبر دے دی آپ نے ہمیں اپنا ازار (تہبند) دیا اور فرمایا کہ اسے ان کی قمیص بنا دو آپ کی مراد اپنے ازار سے تھی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنائز / حدیث: 544
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 8 باب غسل الميت ووضوئه بالماء والسدر»
حدیث نمبر: 545
545 صحيح حديث أُمِّ عَطِيَّةَ الأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ، فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ فَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ فَقَالَ أَيُّوبُ (أَحَد الرواة) : وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُحَمَّدٍ، وَكَانَ فِي حَدِيثِ حَفْصَةَ اغْسِلْنَهَا وِتْرًا َكَانَ فِيهِ ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا وَكَانَ فِيهِ أَنَّهُ قَالَ: ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَواضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا وَكَانَ فِيهِ، أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: وَمَشَطْنَاهَا ثَلاَثَةَ قُرُونٍ
مولانا داود راز
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں کہ آپ تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دو یا اس سے بھی زیادہ پانی اور بیری کے پتوں سے اور آخر میں کافور بھی استعمال کرنا پھر فارغ ہو کر مجھے خبر دے دینا جب ہم فارغ ہوئے تو آپ کو خبر کر دی آپ نے اپنا ازار عنایت فرمایا اور فرمایا کہ یہ اندر اس کے بدن پر لپیٹ دو۔ ایوب (راوی) نے کہا کہ مجھ سے حفصہ نے بھی محمد بن سیرین کی حدیث کی طرح بیان کیا تھا سیدہ حفصہ کی حدیث میں تھا کہ طاق مرتبہ غسل دینا اور اس میں یہ تفصیل تھی کہ تین یا پانچ یا سات مرتبہ (غسل دینا) اور اس میں یہ بھی بیان تھا کہ میت کے دائیں طرف سے اور اعضائے وضو سے غسل شروع کیا جائے یہ بھی اسی حدیث میں تھا کہ ام عطیہ نے کہا ہم نے کنگھی کر کے ان کے بالوں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنائز / حدیث: 545
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: باب ما يستحب أن يغسل وترا»
حدیث نمبر: 546
546 صحيح حديث أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: لَمَّا غَسَّلْنَا بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَنَا، وَنَحْنُ نَغْسِلُهَا: ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا
مولانا داود راز
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو ہم غسل دے رہی تھیں جب ہم نے غسل شروع کر دیا تو آپ نے فرمایا کہ غسل دائیں طرف سے اور اعضائے وضو سے شروع کرو۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنائز / حدیث: 546
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 33 كتاب الجنائز: 11 باب مواضع الوضوء من الميت»