کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: شدت سے نوحہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 540
540 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرٍ وَابْنِ رَوَاحَةَ، جَلَسَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ، وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صَائرِ الْبَابِ، شَقِّ الْبَابِ؛ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ، وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُنَّ، فَذَهَبَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، لَمْ يُطِعْنَهُ، فَقَالَ: أنْهَهُنَّ فَأَتَاهُ الثَّالِثَةَ، قَالَ: وَاللهِ غَلَبْنَنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَزَعَمَتْ أَنَّه قَالَ: فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ فَقُلْتُ: أَرْغَمَ اللهُ أَنْفَكَ، لَمْ تَفْعَلْ مَا أَمَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ تَتْرُكْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَنَاءِ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیّدنا زید بن حارثہ، سیّدنا جعفر اور عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت (غزوہ موتہ میں) کی خبر ملی تو آپ اس وقت اس طرح تشریف فرما تھے کہ غم کے آثار آپ کے چہرے پر ظاہر تھے میں دروازے کے سوراخ سے دیکھ رہی تھی اتنے میں ایک صاحب آئے اور سیّدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے گھر کی عورتوں کے رونے کا ذکر کیا آپ نے فرمایا کہ انہیں رونے سے منع کر دو وہ گئے لیکن واپس آ کر کہا کہ وہ تو نہیں مانتیں آپ نے پھر فرمایا کہ انہیں منع کر دو اب وہ تیسری مرتبہ واپس ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ قسم اللہ کی وہ تو ہم پر غالب آ گئی ہیں (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکو) یقین ہوا کہ (ان کے اس کہنے پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان کے منہ میں مٹی جھونک دے اس پر میں نے کہا کہ تیرا برا ہو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اب جس کام کا حکم دے رہے ہیں وہ تو کرو گے نہیں لیکن آپ کو تکلیف میں ڈال دیا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنائز / حدیث: 540
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 41 باب من جلس عند المصيبة يعرف فيه الحزن»
حدیث نمبر: 541
541 صحيح حديث أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: أَخَذَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَيْعَةِ أَنْ لاَ نَنُوحَ، فَمَا وَفَتْ مِنَّا امْرَأَةٌ غَيْرُ خَمْسِ نِسْوَةٍ: أُمُّ سُلَيْمٍ، وَأُمُّ الْعَلاَءِ، وَابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ امْرَأَةُ مُعَاذٍ، وَامْرَأَتَيْنِ؛ أَوِ ابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ، وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ، وَامْرَأَةٌ أُخْرَى
مولانا داود راز
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لیتے وقت ہم سے یہ عہد بھی لیا تھا کہ ہم (میت پر) نوحہ نہیں کریں گی لیکن اس اقرار کو پانچ عورتوں کے سوا اور کسی نے پورا نہیں کیا یہ عورتیں ام سلیم ،ام علاء ابو سبرہ کی صاحبزادی جو معاذ کے گھر میں تھیں اور اس کے علاوہ دو عورتیں یا (یہ کہا کہ) ابو سبرہ کی صاحبزادی معاذ کی بیوی اور ایک دوسری خاتون۔ ( رضی اللہ عنہ)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنائز / حدیث: 541
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 46 باب ما ينهى عن النوح والبكاء والزجر عن ذلك»
حدیث نمبر: 542
542 صحيح حديث أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأَ عَلَيْنَا (أَنْ لاَ يُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا) وَنَهَانَا عَنِ النِّيَاحَةِ، فَقَبَضَتِ امْرَأَةٌ يَدَهَا، فَقَالَتْ: أَسْعَدَتْنِي فُلاَنَةُ أُرِيدُ أَنْ أَجْزيهَا، فَمَا قَالَ لَهَا النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَانْطَلَقَتْ وَرَجَعَتْ فَبَايَعَهَا
مولانا داود راز
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ نے ہمارے سامنے اس آیت کی تلاوت کی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی (الممتحنہ۱۲) اور ہمیں نوحہ (یعنی میت پر زور زور سے رونا پیٹنا واویلا کرنا) سے منع فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ممانعت پر ایک عورت (خود ام عطیہ) نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور عرض کیا کہ فلاں عورت نے نوحہ میں میری مدد کی تھی میں چاہتی ہوں کہ اس کا بدلہ چکا آؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا چنانچہ وہ گئیں اور پھر دوبارہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنائز / حدیث: 542
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 60 سورة الممتحنة: 3 باب إذا جاءك المؤمنات يبايعنك»