کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: جمعہ کے دن خوشبو لگانے اور مسواک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 490
490 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ، وَأَنْ يَسْتَنَّ، وَأَنْ يَمَسَّ طيبًا، إِنْ وَجَدَ
مولانا داود راز
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں گواہ ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ہر جوان پر غسل مسواک اور خوشبو لگانا اگر میسر ہو ضروری ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجمعة / حدیث: 490
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 11 كتاب الجمعة: 3 باب الطيب للجمعة»
حدیث نمبر: 491
491 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ: أَيَمَسُّ طيبًا أَو دُهْنًا إِنْ كَانَ عِنْدَ أَهْلِهِ فَقَالَ: لاَ أَعْلَمُهُ
مولانا داود راز
حضرت طاؤس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے جمعہ کے دن غسل کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا ذکر کیا تو میں نے ان سے کہا کہ کیا تیل اور خوشبو کا استعمال بھی ضروری ہے؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجمعة / حدیث: 491
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 11 كتاب الجمعة: 6 باب الدهن للجمعة»
حدیث نمبر: 492
492 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيّامٍ يَوْمًا يَغْسِلُ فِيهِ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مسلمان پر (اللہ تعالیٰ کا) حق ہے ہر سات دن میں ایک دن جمعہ میں غسل کرے جس میں اپنے سر اور بدن کو دھوئے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجمعة / حدیث: 492
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 11 كتاب الجمعة: 12 باب هل على من لم يشهد الجمعة غسل من النساء والصبيان وغيرهم»
حدیث نمبر: 493
493 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّما قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کر کے نماز پڑھنے جائے تو گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی دی (اگر اول وقت مسجد میں پہنچا) اور اگر بعد میں گیا تو گویا ایک گائے کی قربانی دی اور جوتیسرے نمبر پر گیا اس نے ایک سینگ والے مینڈھے کی قربانی دی لیکن جب امام خطبہ کے لئے باہر آ جاتا ہے تو ملائکہ خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
وضاحت:
جمعہ میں حاضری کا وقت صبح ہی سے شروع ہو جاتا ہے اور سب سے پہلے ثواب اس کو ملے گا جو اول وقت جمعہ کے لیے مسجد میں آجائے۔ سلف امت کا اس پر عمل تھا کہ وہ جمعہ کے دن صبح سویرے مسجد میں چلے جاتے۔(راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجمعة / حدیث: 493
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 11 كتاب الجمعة: 4 باب فضل الجمعة»