حدیث نمبر: 448
448 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا حَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ؛ فَقَالَ: مَا هذَا الْحَبْلُ قَالُوا: هذَا حَبْلٌ لِزَيْنَبَ، فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَت فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَحُلُّوهُ، لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ
مولانا داود راز
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے آپ کی نظر ایک رسی پر پڑی جو دوستونوں کے درمیان تنی ہوئی تھی دریافت فرمایا یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے عرض کی کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے باندھی ہے جب وہ (نماز میں کھڑی کھڑی) تھک جاتی ہیں تو اس سے لٹک رہتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں یہ رسی نہیں ہونی چاہئے اسے کھول ڈالو تم میں سے ہر شخص کو چاہئے کہ جب تک دل لگے نماز پڑھے تھک جائے تو بیٹھ جائے۔
حدیث نمبر: 449
449 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ، قَالَ: مَنْ هذِهِ قَالَتْ: فُلاَنَةُ، تَذْكُرُ مِنْ صَلاَتِهَا، قَالَ: مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ، فَوَاللهِ لاَ يَمَلُّ اللهُ حَتَّى تَمَلُّوا وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک دن) میرے پاس آئے اس وقت ایک عورت میرے پاس بیٹھی تھی آپ نے دریافت کیا یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا فلاں عورت اور اس کی نماز (کے اشتیاق اور پابندی) کا ذکر کیا آپ نے فرمایا ٹھیر جاؤ (سن لو کہ) تم پر اتنا ہی عمل واجب ہے جتنے عمل کی تمہارے اندر طاقت ہے خدا کی قسم (ثواب دینے سے) اللہ نہیں اکتاتا مگر تم (عمل کرتے کرتے) اکتا جاؤ گے اور اللہ کو دین (کا) وہی (عمل) زیادہ پسند ہے جس کی ہمیشہ پابندی کی جا سکے (اور انسان بغیر اکتائے اسے انجام دے)۔
حدیث نمبر: 450
450 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لاَ يَدْرِي لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُب نَفْسَهُ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز پڑھتے وقت تم میں سے کسی کو اونگھ آ جائے ‘ تو چاہئے کہ وہ سو رہے یہاں تک کہ نیند کا اثر اس سے ختم ہو جائے۔ اس لئے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے لگے اور اونگھ رہا ہو تو وہ کچھ نہیں جانے گا کہ وہ خدا سے مغفرت طلب کر رہا ہے یا اپنے نفس کو بددعا دے رہا ہے۔‘‘