کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: فجر کی سنت کی فضیلت و رغبت کا بیان
حدیث نمبر: 419
419 صحيح حديث حَفْصَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ، إِذَا اعْتَكَفَ الْمُؤَذِّنُ لِلصُّبْحِ، وَبَدَا الصُّبْحُ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلاَةُ
مولانا داود راز
ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب موذن صبح کی اذان صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد دے چکا ہوتا تو آپ اذان اور تکبیر کے بیچ نماز قائم ہونے سے پہلے دو ہلکی سی رکعات پڑھتے (یہ فجر کی سنتیں ہوتی تھیں آپ سفر اور حضر ہر جگہ لازماً ان کو ادا فرماتے تھے)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 419
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 12 باب الأذان بعد الفجر»
حدیث نمبر: 420
420 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالإِقَامَةِ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان دو ہلکی سی رکعات پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 420
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 12 باب الأذان بعد الفجر»
حدیث نمبر: 421
421 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّفُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ، حَتَّى إِنِّي لأَقُولُ هَلْ قَرَأَ بِأُمِّ الْكِتَابِ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی (فرض) نماز سے پہلے کی دو (سنت) رکعات کو بہت مختصر رکھتے تھے آپ نے ان میں سورہ فاتحہ بھی پڑھی یا نہیں میں یہ بھی نہیں کہہ سکتی۔
وضاحت:
یہ مبالغہ ہے۔ یعنی بہت ہلکی پھلکی پڑھا کرتے تھے۔ ابن ماجہ میں ہے کہ آپ ان میں سورہ کافرون اور سورہ اخلاص پڑھا کرتے تھے۔(راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 421
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 28 باب ما يقرأ في ركعتي الفجر»
حدیث نمبر: 422
422 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مِنْهُ تَعَاهُدًا عَلَى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی نفل نماز کی فجر کی دو رکعات سے زیادہ پابندی نہیں کرتے تھے۔
وضاحت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سنتوں پر مداومت فرمائی ہے۔ اس لیے سفرو حضر کہیں بھی ان ترک کرنا اچھا نہیں ہے۔(راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 422
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 27 باب تعاهد ركعتي الفجر ومن سماها تطوعا»