کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: مسافر کو مسجد میں آکر پہلے دو رکعت پڑھنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 415
415 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَأَبْطَأَ بي جَمَلِي وَأَعْيَا، فَأَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: جَابِرٌ فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: مَا شَأْنُكَ قُلْتُ: أَبْطَأَ عَلَيَّ جَمَلِي وَأَعْيَا وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ فَجِئْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: الآنَ قَدِمْتَ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَدَعْ جَمَلَكَ وَادْخُلْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ
مولانا داود راز
سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ (ذات الرقاع یا تبوک) میں تھا میرا اونٹ تھک کر سست ہو گیا اتنے میں میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا جابر! میں نے عرض کیا حضور! حاضر ہوں فرمایا کیا بات ہوئی؟ میں نے کہا کہ میرا اونٹ تھک کر سست ہو گیا ہے چلتا ہی نہیں اس لئے میں پیچھے رہ گیا ہوں میں دوسرے دن صبح کو پہنچا پھر ہم مسجد آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے دروازے پر ملے آپ نے دریافت فرمایا کیا ابھی آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں فرمایا پھر اپنا اونٹ چھوڑ دے اور مسجد میں جا کے دو رکعت نماز پڑھ میں اندر گیا اور نماز پڑھی ۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 415
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 34 باب شراء الدواب والحمير»