کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: نماز کے لیے چل کر جانے سے خطائیں مٹتی اور درجات بلند ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 389
389 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُولُ ذلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ قالُوا: لاَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا قَالَ: فَذلِكَ مِثْلُ الصَّلَواتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللهُ بِهِ الْخَطَايَا
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ اگر کسی شخص کے دروازے پر نہر جاری ہو اور وہ روزانہ اس میں پانچ پانچ دفعہ نہائے تو تمہارا کیا گمان ہے کیا اس کے بدن پر کچھ بھی میل باقی رہ سکتا ہے؟ صحابہ نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ ہرگز نہیں آپ نے فرمایا یہی حال پانچوں وقت کی نمازوں کا ہے کہ اللہ پاک ان کے ذریعہ سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 389
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 6 باب الصلوات الخمس كفارة»
حدیث نمبر: 390
390 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَاحَ أَعَدَّ اللهُ لَهُ نُزُلَهُ مِنَ الْجَنَّةِ كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مسجد میں صبح شام بار بار حاضری دیتا ہے اللہ تعالیٰ جنت میں اس کی مہمانی کا سامان کرے گا وہ صبح شام جب بھی مسجد میں جائے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 390
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 37 باب فضل من غدا إلى المسجد ومن راح»