کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: صبح کی نماز کے لیے سویرے جانے اور اس کی قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 377
377 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنَّ نِسَاءُ الْمُوْمنَاتِ يَشْهَدْنَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاَةَ الْفَجْرِ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ حِينَ يَقْضِينَ الصَّلاَةَ لاَ يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ مسلمان عورتیں رسول اللہ کے ساتھ نماز فجر پڑھنے چادروں میں لپٹ کر آتی تھیں پھر نماز سے فارغ ہو کر جب اپنے گھروں کو واپس ہوتیں تو کوئی انہیں اندھیرے کی وجہ سے پہچان نہیں سکتا تھا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 377
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 27 باب وقت الفجر»
حدیث نمبر: 378
378 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ، وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا وَأَحْيَانًا: إِذَا رَآهُمُ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ، وَإِذَا رَآهُمْ أَبْطَوْا أَخَّرَ؛ وَالصُّبْحَ كَانُوا، أَوْ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيها بِغَلَسٍ
مولانا داود راز
سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز ٹھیک دوپہر میں پڑھایا کرتے تھے ابھی سورج صاف اور روشن ہوتا تھا تو نماز عصر پڑھاتے نماز مغرب وقت آتے ہی پڑھاتے اور نماز عشاء کو کبھی جلدی پڑھاتے اور کبھی دیر سے جب دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھا دیتے اور اگر لوگ جلدی جمع نہ ہوتے تو نماز میں دیر کرتے (اور لوگوں کا انتظار کرتے) اور صبح کی نماز صحابہ یا (یہ کہا کہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 378
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 27 باب وقت الفجر»
حدیث نمبر: 379
379 صحيح حديث أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ، وَقَدْ سُئِلَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ، وَيَرْجِعُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ (قَالَ الرَّاوِي عَنْ أَبِي برْزَةَ: وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ) وَلاَ يُبَالِي بِتَأخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، وَلاَ يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلاَ الْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَيُصَلِّي الصُّبْحَ، فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَعْرِفُ جَلِيسَهُ؛ وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ أَوْ إِحْدَاهُمَا مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ
مولانا داود راز
سیّدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے اوقات نماز کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سورج ڈھلنے پر پڑھتے تھے عصر جب پڑھتے تو مدینہ کے انتہائی کنارہ تک ایک شخص چلا جاتا لیکن سورج اب بھی باقی رہتا مغرب کے متعلق جو کچھ آپ نے کہا وہ مجھے یاد نہیں رہا اور عشاء کے لئے تہائی رات تک دیر کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے اور آپ اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو نا پسند کرتے تھے جب نماز صبح سے فارغ ہوتے تو ہر شخص اپنے قریب بیٹھے ہوئے کو پہچان سکتا تھا آپ دونوں رکعات میں یا ایک میں ساٹھ سے لے کر سو تک آیتیں پڑھتے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 379
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 104 باب القراءة في الفجر»