حدیث نمبر: 370
370 صحيح حديث سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ إِذَا تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ
مولانا داود راز
سیّدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نماز مغرب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت پڑھتے تھے جب سورج پردے میں چھپ جاتا۔
حدیث نمبر: 371
371 صحيح حديث رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ
مولانا داود راز
سیّدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم مغرب کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر جب واپس ہوتے (اور تیر اندازی کرتے تو اتنا اجالا باقی رہتا تھا کہ) ایک شخص اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھتا تھا۔
وضاحت:
اس کی وضاحت وہ حدیث کرتی ہے جو علی بن بلال کے طریق سے مسند احمد میں حسن سند سے مروی ہے۔ وہ انصار کے لوگوں سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے پھر واپس آتے تو تیر اندازی کرتے حتیٰ کہ گھر واپس آجاتے۔ جبکہ تیروں کے گرنے کے مقامات ہم سے مخفی نہیں رہتے تھے۔ اس حدیث میں نماز مغرب جلدی پڑھنے اور اسے لمبا نہ کرنے پر دلیل ہے۔ (مرتبؒ)