کتب حدیث ›
اللؤلؤ والمرجان › ابواب
› باب: گرمی میں جماعت کے ساتھ ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت پڑھنا مستحب ہے اور راستے میں شدید گرمی محسوس ہوتی ہو
حدیث نمبر: 357
357 صحيح حديثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گرمی تیز ہو جائے تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی تیزی جہنم کی آگ کی بھاپ سے ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 358
358 صحيح حديث أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: أَذَّنَ مُؤَذِّنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، فَقَالَ: أَبْرِدْ أَبْرِدْ أَوْ قَالَ: انْتَظِرْ انْتَظِرْ، وَقَالَ: شِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے موذن (سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ ) نے ظہر کی اذان دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھنڈا کر ٹھنڈا کر یا یہ فرمایا کہ انتظار کر انتظار کر اور فرمایا کہ گرمی کی تیزی جہنم کی آگ کی بھاپ سے ہے اس لئے جب گرمی سخت ہو جائے تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو (پھر ظہر کی اذان اس وقت کہی گئی) جب ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھ لئے۔
حدیث نمبر: 359
359 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، فَقَالَتْ: يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا؛ فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ، نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، فَهُوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب گرمی تیز ہو جائے تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی تیزی دوزخ کی آگ کی بھاپ کی وجہ سے ہوتی ہے دوزخ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے میرے رب (آگ کی شدت کی وجہ سے) میرے بعض حصہ نے بعض حصہ کو کھا لیا اس پر اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک سانس جاڑے میں اور ایک سانس گرمی میں اب انتہائی سخت گرمی اور سخت سردی جو تم لوگ محسوس کرتے ہو وہ اسی سے پیدا ہوتی ہے۔
وضاحت:
قرطبی کہتے ہیں کہ اس امر کو حقیقت پر محمول کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ اور جب صادق ومصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک امر جائز کی خبر دی ہے تو اس کی تاویل کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ قرآن حکیم میں ہے کہ ’’ہم قیامت کے دن دوزخ سے پوچھیں گے کیا تیرا پیٹ بھر گیا ہے؟ وہ جواب دے گی ابھی تو بہت گنجائش باقی ہے۔‘‘ (راز)