کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: نماز کے لیے وقار و سکون سے آنا مستحب اور دوڑ کر آنا ممنوع ہے
حدیث نمبر: 350
350 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا تَمْشُونَ، عَلَيْكمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا جب نماز کے لئے تکبیر کہی جائے تو دوڑتے ہوئے مت آؤ بلکہ (اپنی معمولی رفتار سے) آؤ پورے اطمینان کے ساتھ پھر نماز کا جو حصہ (امام کے ساتھ) پا لو اسے پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے بعد میں پورا کرو۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 350
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 11 كتاب الجمعة: 18 باب المشي إلى الجمعة وقول الله جل ذكره (فاسعوا إلى ذكر الله»
حدیث نمبر: 351
351 صحيح حديث أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ سَمِعَ جَلَبَةَ رِجَالٍ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: مَا شَأْنُكُمْ قَالُوا: اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلاَةِ، قَالَ: فَلاَ تَفْعَلُوا، إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلاَةَ فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا
مولانا داود راز
سیّدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں تھے آپ نے کچھ لوگوں کے چلنے پھرنے اور بولنے کی آواز سنی نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا قصہ ہے لوگوں نے کہا کہ ہم نماز کے لئے جلدی کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو بلکہ جب تم نماز کے لئے آؤ تو وقار اور سکون کو ملحوظ رکھو نماز کا جو حصہ پاؤ اسے پڑھو اور جو رہ جائے اسے (بعد میں) پورا کر لو۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 351
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 20 باب قول الرجل فاتتنا الصلاة»