حدیث نمبر: 326
326 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلاَمٌ، فَقَالَ: شَغَلَتْنِي أَعْلاَمُ هذِهِ اذهبوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةٍ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر میں نماز پڑھی پھر فرمایا کہ اس کے نقش و نگار نے مجھے غافل کر دیا اسے لے جا کر ابو جھم کو واپس کر دو اور ان سے (بجائے اس کے) سادی چادر مانگ لاؤ۔
وضاحت:
یہ چادر ابو جھم نے آپ کو تحفہ میں دی تھی مگر اس کے نقش و نگار آپ کو پسند نہیں آئے کیونکہ ان کی وجہ سے نماز کے خشوع و خضوع میں فرق آ رہا تھا اس لئے آپ نے اسے واپس کرا دیا۔ معلوم ہوا کہ نماز میں غافل کرنے والی کوئی چیز نہ ہونی چاہیے۔