کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: رکوع میں ہاتھوں کا گھٹنوں پر رکھنا اور تطبیق کا منسوخ ہونا
حدیث نمبر: 310
310 صحيح حديث سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ مُصْعَبُ ابْنُ سَعْدٍ: صَلَيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي فَطَبَّقْتُ بَيْنَ كَفَّيَّ، ثُمَّ وَضَعْتُهُمَا بَيْنَ فَخِذَيَّ، فَنَهَانِي أَبِي، وَقَالَ: كُنَّا نَفْعَلُهُ؛ فَنُهِينَا عَنْهُ، وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ أَيْدِينَا عَلَى الرُّكَبِ
مولانا داود راز
سیّدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے مصعب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کے پہلو میں نماز پڑھی اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر رانوں کے درمیان رکھ لیا اس پر میرے باپ نے مجھے ٹوکا اور فرمایا کہ ہم بھی پہلے اسی طرح کرتے تھے لیکن بعد میں اس سے روک دئیے گئے اور یہ حکم ہوا کہ ہم اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھیں۔
وضاحت:
سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے رکوع میں دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملا کر دونوں رانوں کے بیچ میں رکھنا منقول ہے۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ باب لا کر اشارہ فرمایا کہ یہ حکم منسوخ ہوگیا ہے۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 310
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 118 باب وضع الأكف على الركب في الركوع»