کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: قبروں پر مساجد بنانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 305
305 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَة وَأُمَّ سَلَمَةَ ذكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَتَاهَا بِالْحَبَشَةِ، فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَذَكَرَتَا ذلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: إِنَّ أُولئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ، فَأُولئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ دونوں نے ایک کلیسا کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اس میں مورتیں تھیں انہوں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا یہ قاعدہ تھا کہ اگر ان میں کوئی نیکو کار شخص مر جاتا تو وہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں یہی مورتیں بنا دیتے یہ لوگ خدا کی درگاہ میں قیامت کے دن تمام مخلوق میں برے ہوں گے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 305
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 48 باب هل تنبش قبور مشركي الجاهلية ويتخذ مكانها مساجد»
حدیث نمبر: 306
306 صحيح حديث عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي مَرضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ قَالَتْ: وَلَوْلاَ ذلِكَ لأبْرَزُوا قَبْرَهُ، غَيْرَ أَنِّي أَخْشى أَنْ يُتَّخَذَ مِسْجِدًا
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض وفات میں فرمایا کہ یہود اور نصاری پر اللہ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے کہا کہ اگر ایسا ڈر نہ ہوتا تو آپ کی قبر کھلی رہتی (اور حجرے میں نہ ہوتی) کیونکہ مجھے ڈر اس کا ہے کہ کہیں آپ کی قبر بھی مسجد نہ بنا لی جائے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 306
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 62 باب ما يكره من اتخاذ المساجد على القبور»
حدیث نمبر: 307
307 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: قَاتَلَ اللهُ الْيَهُودَ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودیوں پر خدا کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 307
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 55 باب حدثنا أبو اليمان»
حدیث نمبر: 308
308 صحيح حديث عَائِشَةَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالاَ: لَمَّا نَزَلَ برَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةَ لَهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَإِذَا اغْتَمَّ بهَا كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ، وَهُوَ كَذلِكَ: لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ اور سیّدنا عبداللہ بن عباس ( رضی اللہ عنہما) نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں اپنی چادر کو بار بار چہرے پر ڈالتے جب کچھ افاقہ ہوتا تو چادر ہٹا دیتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی اضطراب و پریشانی کی حالت میں فرمایا یہود و نصاری پر خدا کی پھٹکار ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا آپ یہ فرما کر امت کو ایسے کاموں سے ڈراتے تھے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 308
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 55 باب حدثنا أبُو اليمان»