حدیث نمبر: 206
206 صحيح حديث عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْض أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ، أَوْ، بِذَاتِ الْجَيْشِ، انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي؛ فَأَقَام رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ؛ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالُوا: أَلاَ تَرَى إِلَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسِ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ؛ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَعاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقولَ، وَجَعَلَ يطْعُنُنِي بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلاَ يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلاَّ مَكَانُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ، فَتَيمَّمُوا؛ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ: مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبي بَكْرِ قَالَتْ: فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَأَصَبْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ
مولانا داود راز
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر (غزوہ بنی المصطلق) میں تھے جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش پر پہنچے تو میرا ایک ہار کھو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاش میں وہیں ٹھہر گئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ٹھہر گئے لیکن وہاں پانی کہیں قریب میں نہ تھا لوگ سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا سیدہ عائشہ ( رضی اللہ عنہا) نے کیا کام کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام لوگوں کو ٹھہرا دیا ہے اور پانی بھی کہیں قریب میں نہیں ہے اور نہ لوگوں ہی کے ساتھ ہے پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک میری زانو پر رکھے ہوئے سو رہے تھے فرمانے لگے کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام لوگوں کو روک لیا حالانکہ قریب میں کہیں پانی بھی نہیں ہے اور نہ لوگوں کے پاس ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکہتی ہیں کہ والد ماجد ( رضی اللہ عنہا) مجھ پر بہت خفا ہوئے اور اللہ نے جو چاہا انہوں نے مجھے کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچو کے لگائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر تھا اس وجہ سے میں حرکت بھی نہیں کر سکتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کے وقت اٹھے تو پانی کا پتہ تک نہ تھا پس اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری اور لوگوں نے تیمم کیا اس پر اسید بن حضیر نے کہا اے آل ابی بکریہ تمہاری کوئی پہلی برکت نہیں ہے سیدہ عائشہ ( رضی اللہ عنہا) نے فرمایا پھر ہم نے اس اونٹ کو ہٹایا جس پر میں سوار تھی تو ہار اسی کے نیچے مل گیا۔
حدیث نمبر: 207
207 صحيح حديث عَمَّارٍ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ وَأَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسى لَوْ أَنَّ رَجُلاً أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ المَاءَ شَهْرًا، أَمَا كَانَ يَتَيَمَّمُ وَيُصَلِّي كَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ (فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا) فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هذَا لأَوْشَكُوا إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءَ أَنْ يَتَيَمَّموا الصَّعِيدَ قُلْتُ: وَإِنَّمَا كَرِهْتُمْ هذَا لِذَا قَالَ: نَعَمْ فَقَالَ أَبُو مُوسى: أَلَمْ تَسْمَع قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَر: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَما تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: إِنَمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَصْنَعَ هكَذَا؛ فَضَرَبَ بِكَفِّهِ ضَرْبَةً عَلَى الأَرْضِ، ثُمَّ نَفَضَهَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهَا ظَهْرَ كَفِّهِ بِشِمَالِهِ، أَوْ ظَهْرَ شَمَالِهِ بِكَفِّهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِهَا وَجْهَه فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: أَفَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ
مولانا داود راز
شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ور سیّدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا سیّدنا ابو موسیٰ نے سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر ایک شخص کو غسل کی حاجت ہو اور مہینہ بھر پانی نہ پائے تو کیا وہ تیمم کر کے نماز نہ پڑھے؟ شقیق کہتے ہیں کہ سیّدناعبداللہ بن مسعود نے جواب دیا کہ وہ تیمم نہ کرے اگرچہ وہ ایک مہینہ تک پانی نہ پائے (اور نماز موقوف رکھے) ابو موسیٰ نے اس پر کہا کہ پھر سورہ مائدہ کی اس آیت کا کیا مطلب ہو گا اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی پر تیمم کر لو۔ سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بولے کہ اگر لوگوں کو اس کی اجازت دے دی جائے تو جلدی یہ حال ہو جائے گا کہ جب ان کو پانی ٹھنڈا معلوم ہو گا تو وہ مٹی سے تیمم ہی کر لیں گے راوی کا بیان ہے کہ میں نے کہا تو آپ نے جنبی کے لئے تیمم اس لئے برا جانا انہوں نے کہا ہاں پھر سیّدناابو موسیٰ نے فرمایا کہ کیا آپ کو سیّدنا عمار رضی اللہ عنہ کا سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ قول معلوم نہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے لئے بھیجا تھا سفر میں مجھے غسل کی ضرورت ہو گئی لیکن پانی نہیں ملا اس لئے میں مٹی میں جانور کی طرح لوٹ پوٹ ہو گیا پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ تمہارے لئے صرف اتنا کرنا کافی تھا اور آپ نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر ایک مرتبہ مارا پھر ان کو جھاڑ کر بائیں ہاتھ سے داہنے کی پشت کو مل لیا یا بائیں ہاتھ کا داہنے ہاتھ سے مسح کیا پھر دونوں ہاتھوں سے چہرے کا مسح کیا۔ سیّدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کا جواب دیا کہ آپ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھتے کہ انہوں نے عمار کی بات پر قناعت نہیں کی تھی۔
وضاحت:
جنابت، حیض اور نفاس کی وجہ سے (فرض غسل سے) تیمم کرنے کے جائز ہونے پر متاخرین اور خلف کا اتفاق ہے اور سلف کا بھی اتفاق تھا مگر سوائے حضرت عمر، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ م اور حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے، کہ ان سے عدم جواز کا قول منقول ہے جب کہ حضرت عمر اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ م کا اس مسئلہ میں رجوع بھی منقول ہوا ہے باقی اس مسئلہ کے جواز میں صحیح احادیث منقول ہیں جن کے مقابلے میں کسی کی بات قابل اعتناء نہیں سمجھی جا سکتی۔ روای حدیث: حضرت عمار بن یساء رضی اللہ عنہ نے ابتداء میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت سمیہ رضی اللہ عنہ تھا۔ آپ کے والد اور والدہ کو اللہ کی راہ میں بڑی اذیتیں دی گئیں۔ نبی اکرمﷺ پاس سے گزرتے تو فرماتے اے یاسر کی اولاد صبر کرو یقینا تمہارا ٹھکانا جنت ہے۔ غزوہ بدر اور دیگر غزوات میں بھی شریک رہے۔ جنگ یمامہ میں حاضر ہوئے تو ان کے کان کاٹ لئے گئے۔ پھر حضرت عمر کے زمانہ میں کوفہ کے عامل رہے۔
حدیث نمبر: 208
208 صحيح حديثُ عَمَّارٍ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ؛ فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أُصِبِ الْمَاءَ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَمَا تَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَنَا وَأَنْتَ؛ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فَصَلَّيْتُ، فَذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هكَذَا، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَفَّيْهِ الأَرْضَ، وَنَفَخَ فِيهِمَا وَجْهَهُ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ
مولانا داود راز
ایک شخص سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کی کہ مجھے غسل کی حاجت ہو گئی اور پانی نہیں ملا (تو میں اب کیا کروں) اس پر سیّدنا عمار بن یاسر نے سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ سفر میں تھے ہم دونوں جنبی ہو گئے آپ نے تو نماز نہیں پڑھی لیکن میں زمین پر لوٹ پوٹ ہو گیا اور نماز پڑھ لی پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ تجھے بس اتنا ہی کافی تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر انہیں پھونکا اور دونوں ہاتھوں سے چہرے اور پہنچوں کا مسح کیا۔
حدیث نمبر: 209
209 صحيح حديث أَبِي الْجُهَيْمِ الأَنْصَارِيِّ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحرِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ: أَقْبَلَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ
مولانا داود راز
سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ کے غلام عمیر بن عبداللہ نے کہا کہ میں اور حضرت میمونہ زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام عبداللہ بن یسار ابو جھیم بن حارث صمہ انصاری (صحابی) کے پاس آئے تو ابوالجھیم نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیئر جمل کی طرف سے تشریف لا رہے تھے راستے میں ایک شخص آپ کو ملا اور اس نے آپ کو سلام کیا (یعنی خود ابو جھیم نے) لیکن آپ نے جواب نہیں دیا پھر آپ دیوار کے قریب آئے اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔
وضاحت:
راوي حدیث: سیّدنا ابو جہیم بن حارث الانصاری رضی اللہ عنہ بی بن کعب کے بھانجے ہیں اور معروف صحابی ہیں۔ خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ تک زندہ رہے۔ ان کا نام عبداللہ تھا۔ بعض نے ان کا نام حارث بتایا ہے اور کہا ہے کہ ابو جہیم اور حارث کے درمیان ابن کا لفظ غلط واقع ہوا ہے۔