کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: جس شخص کو طہارت کا یقین ہو پھر اس میں شک ہو تو وہ اس وضو میں نماز پڑھ سکتا ہے
حدیث نمبر: 204
204 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الرَّجُلُ الَّذِي يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلاَةِ، فَقَالَ: لاَ يَنْفَتِلْ أَوْ لاَ يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ ایک شخص ہے جسے یہ خیال ہوتا ہے کہ نماز میں کوئی چیز (یعنی ہوا نکلتی ہوئی) معلوم ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (نماز سے) نہ پھرے یا نہ مڑے، جب تک آواز نہ سنے یا بو نہ پائے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحيض / حدیث: 204
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 4 باب لا يتوضأ من الشك حتى يستيقن»