کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کا واجب ہونا منسوخ ہے
حدیث نمبر: 200
200 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ کھایا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحيض / حدیث: 200
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 50 باب من لم يتوضأ من لحم الشاة والسويق»
حدیث نمبر: 201
201 صحيح حديث عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلاَةِ فَأَلْقَى السِّكِّينَ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
مولانا داود راز
سیّدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بکری کے شانے سے کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر آپ نماز کے لیے بلائے گئے تو آپ نے چھری ڈال دی اور نماز پڑھی، نیا وضو نہیں کیا۔
وضاحت:
راوي حدیث: سیّدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو امیہ ضمری ہے احد کے دن اسلام قبول کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اکیلے ایک سریہ پر بھیجا اور نجاشی کی طرف بطور قاصد بھی بھیجا تھا۔ بیئر معونہ کے معرکہ میں گرفتار ہوئے اور عامر بن طفیل نے انہیں قید کر دیا تھا۔ اور ان کی پیشانی کے بال کاٹ کر انہیں آزاد کر دیا تھا۔ سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ۶۰ہجری کو مدینہ میں وفات پائی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحيض / حدیث: 201
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 50 باب من لم يتوضأ من لحم الشاة والسويق»
حدیث نمبر: 202
202 صحيح حديث مَيْمُونَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَّضَّأْ
مولانا داود راز
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں (بکری کا) شانہ کھایا پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں فرمایا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحيض / حدیث: 202
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 51 باب من مضمض من السويق ولم يتوضأ»
حدیث نمبر: 203
203 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ وَقَالَ: إِنَّ لَهُ دَسَمًا
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، پھر کلی کی اور فرمایا اس میں چکنائی ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحيض / حدیث: 203
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 52 باب هل يمضمض من اللبن»