حدیث نمبر: 196
196 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَجَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ؛ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ، فَقَالَ: نَعَمْ؛ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ قُحِطْتَ فَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ
مولانا داود راز
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری کو بلایا۔ وہ آئے تو ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شاید ہم نے تمہیں جلدی میں ڈال دیا۔ انہوں نے کہا، جی ہاں۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی جلدی (کا کام) آپڑے یا تمہیں انزال نہ ہو تو تم پر وضو ہے۔
حدیث نمبر: 197
197 صحيح حديث أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فَلَمْ يُنْزِلْ قَالَ: يَغْسِلُ مَا مَسَّ الْمَرْأَةَ مِنْهُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي
مولانا داود راز
سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مرد عورت سے جماع کرے اور انزال نہ ہو تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت سے جو کچھ اسے لگ گیا ہے اسے دھو لے پھر وضو کرے اور نماز پڑھے ۔
وضاحت:
راوي حدیث: سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوالمنذر تھی۔ بہت بڑے قاری اور مقری تھے۔ اسلام لانے سے قبل یہود کے بہت بڑے عالم تھے۔ جب اسلام لائے تو کاتب وحی مقرر ہوئے۔ بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارک میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا اور فتویٰ دیا کرتے تھے۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جابیہ کے معرکے میں شامل ہوئے۔ بیت المقدس والوں سے ہونے والا صلح نامہ انہوں نے لکھا تھا۔ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حکم سے جمع قرآن میں شریک تھے۔ مدینہ منورہ میں ہی وفات پائی۔ ۱۶۴ احادیث کے راوی ہیں۔ جن میں سے تین متفق علیہ ہیں۔
حدیث نمبر: 198
198 صحيح حديث عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضي الله عنه، قَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ: أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ فَلَمْ يُمْنِ قَالَ عُثْمَانُ: يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَةِ وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ؛ قَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مولانا داود راز
زید بن خالد رحمہ اللہ نے سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص صحبت کرے اور منی نہ نکلے۔ فرمایا وضو کرے جس طرح نماز کے لیے وضو کرتا ہے، اور اپنے عضو کو دھو لے۔ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (یہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
وضاحت:
یہ سب روایات ابتدائی عہد سے متعلق ہیں۔ اب صحبت کے بعد غسل فرض ہے خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امت کا اجماع ہے کہ جماع کرنے سے غسل واجب ہوتا ہے منی نکلے یا نہ نکلے۔ مولانا عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہی حق وصواب ہے۔ (تحفۃ الاحوذی: ج۱ ص ۱۰۰، راز)