کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: مستحاضہ کا بیان اور اس کے غسل اور نماز کا حال
حدیث نمبر: 190
190 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ ابْنَةُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ، فَلاَ أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ، إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِحَيْضٍ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلاَةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلاَةٍ حَتَّى يَجِيءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابو حبیش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کی بیماری ہے اس لئے میں پاک نہیں رہتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ نے فرمایا نہیں یہ ایک رگ (کا خون) ہے حیض نہیں تو جب تجھے حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب یہ دن گذر جائیں تو اپنے (بدن اور کپڑے) سے خون کو دھو ڈال پھر نماز پڑھ پھر ہر نماز کے لئے وضو کر یہاں تک کہ وہی (حیض کا) وقت پھر آ جائے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحيض / حدیث: 190
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: كتاب الوضوء: 63 باب غسل الدم»
حدیث نمبر: 191
191 صحيح حديث عَائَشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ، فَقَالَ: هذَا عِرْقٌ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاَةٍ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا(جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں) فرماتی ہیں کہ ام حبیبہ سات سال تک مستحاضہ رہیں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ رگ (کی وجہ سے بیماری) ہے پس ام حبیبہ ہر نماز کے لئے غسل کرتی تھیں ۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحيض / حدیث: 191
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 6 كتاب الحيض: 26 باب عرق الاستحاضة»