حدیث نمبر: 184
184 صحيح حديث عَائِشَة، قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، مِنْ قَدَحٍ يُقالُ لَهُ الْفَرَق
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کیا کرتے تھے۔ اس برتن کو فرق کہا جاتا تھا۔
وضاحت:
الفرق: سولہ رطل پر مشتمل پیمانہ جس کا اہل مدینہ استعمال کرتے تھے۔ (سولہ رطل تقریباً پونے سات سیر کے برابر ہے)
حدیث نمبر: 185
185 صحيح حديث عَائِشَة سَأَلَهَا أَخُوهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ نَحْوٍ مِنْ صَاعٍ، فَاغْتَسَلَتْ وَأَفَاضَتْ عَلَى رَأْسِهَا؛ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا حِجَابٌ (قَوْلَ أَبِي سَلَمَةَ)
مولانا داود راز
ابو مسلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکے بھائی (سیّدناعبدالرحمن بن ابی بکر) نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاع جیسا ایک برتن منگوایا۔ پھر غسل کیا اور اپنے اوپر پانی بہایا اس وقت ہمارے درمیان اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا ۔
وضاحت:
یہ سیّدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکے رضاعی بھانجے تھے۔ اور آپ کے محرم تھے۔ ابو سلمہ سیّدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ام المومنین کے پاس گئے تو انہوں نے پردہ سے غسل فرما کر ان کو طریقہ غسل کی تعلیم فرمائی۔ (راز)
حدیث نمبر: 186
186 صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ، أَوْ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ إِلَى خَمْسَةِ أَمْدَادٍ، وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ
مولانا داود راز
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب دھوتے یا ( یہ کہا کہ) جب نہاتے تو ایک صاع سے لے کر پانچ مد تک( پانی استعمال فرماتے تھے) اور جب وضو فرماتے تو ایک مد (پانی ) سے۔