کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: شیر خوار بچے کے پیشاب کو دھونے کا طریقہ
حدیث نمبر: 163
163 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ، فَيَدْعُو لَهُمْ، فَأُتِيَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ إِيَّاهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچوں کو لایا جاتا تو آپ ان کے لئے دعا کرتے تھے ایک مرتبہ ایک بچہ لایا گیا اور اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا اور پیشاب کی جگہ پر اسے ڈالا کپڑے کو دھویا نہیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الطهارة / حدیث: 163
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 80 كتاب الدعوات: 3 باب الدعاء للصبيان بالبركة ومسح رؤوسهم»
حدیث نمبر: 164
164 صحيح حديث أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ
مولانا داود راز
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اپنا چھوٹا بچہ لے کر آئی جو کھانا نہیں کھاتا تھا (یعنی شیر خوار تھا) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گود میں بٹھا لیا اس بچے نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا آپ نے پانی منگا کر کپڑے پر چھڑک دیا اور اسے نہیں دھویا۔
وضاحت:
شیر خوار بچہ جس نے کچھ بھی کھانا پینا نہیں سیکھا ہے اس کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے کافی ہیں۔ مگر یہ حکم صرف مرد بچوں کے لیے ہے بچیوں کا پیشاب بہرحال دھونا ہی ہوگا۔ (راز) راوي حدیث: سیدہ ام قیس بن محصن رضی اللہ عنہا آپ سیّدناعکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں، بقول بعض آپ کا نام آمنہ تھا۔ مکہ میں اسلام قبول کیا تھا، بیعت کی اور مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ ۲۴ احادیث کی راوی ہیں۔ جن میں سے دو متفق علیہ ہیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الطهارة / حدیث: 164
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 59 باب بول الصبيان»