حدیث نمبر: 155
155 صحيح حديث جَرِيرٍ بْنِ عَبْدِ اللهِ بَالَ ثُمَّ تَوضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فسُئِلَ فَقَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ هذَا
مولانا داود راز
سیّدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا پھر کھڑے ہوئے اور (موزوں سمیت) نماز پڑھی آپ سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 156
156 صحيح حديث حُذَيْفَةَ، قَالَ: رَأَيْتُنِي أَنَا وَالنَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَمَاشَى، فَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ خَلْفَ حَائِطٍ فَقَامَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ، فَبَالَ، فَانْتَبَذْتُ مِنْهُ، فَأَشَارَ إِلَيَّ فَجِئْتُهُ، فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ حَتَّى فَرَغَ
مولانا داود راز
سیّدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جا رہے تھے کہ ایک قوم کی کوڑی (کوڑا پھینکنے کی جگہ) پر (جو) ایک دیوار کے پیچھے (تھی) پہنچے تو آپ اس طرح کھڑے ہو گئے جس طرح ہم تم میں سے کوئی (شخص) کھڑا ہوتا ہے پھر آپ نے پیشاب کیا اور میں ایک طرف ہٹ گیا تب آپ نے مجھے اشارہ کیا تو میں آپ کے پاس (پردہ کی غرض سے) آپ کی ایڑیوں کے قریب کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ آپ پیشاب سے فارغ ہو گئے ۔
وضاحت:
قضائے حاجت کرتے ہوئے جو چیز ملحوظ رکھنی چاہیے وہ ہے چھینٹوں سے بچنا۔ پس عام حالات میں بیٹھ کر ہی یہ بات ممکن ہوتی ہے جب کہ اس قسم کے خاص موقعوں پر کھڑے ہو کر چھینٹوں سے بچا جا سکتا ہے۔ اس لیے اگر بیٹھنا مشکل اور دشوار ہو یا کھڑے ہو کر پیشاب کرنے میں احتیاط ہو تو کھڑے ہو کر پیشاب کرنے میں مضائقہ نہیں البتہ عام حالات میں بیٹھ کر پیشاب کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 157
157 صحيح حديث الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ، فَصَبَّ عَلَيْهِ حِينَ فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ
مولانا داود راز
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔( ایک دفعہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفع حاجت کے لئے باہر گئے تو سیّدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ پانی کا ایک برتن لے کر آپ کے پیچھے گئے‘جب آپ قضاء حاجت سے فارغ ہو گئے تو سیّدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے( آپ کو وضو کراتے ہوئے) آپ( کے اعضاء مبارکہ) پر پانی ڈالا۔ آپ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح فرمایا۔
وضاحت:
راوي حدیث: سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عیسیٰ یا ابو محمد یا ابو عبداللہ تھی۔ حدیبیہ سے پہلے مسلمان ہوئے اور صلح حدیبیہ اور بیعت رضوان۔ جنگ یمامہ اور شام وعراق کی فتوحات میں شریک رہے کئی مرتبہ کوفہ کے حاکم اور گورنر مقرر ہوئے۔ ستر سال کی عمر میں پچاس ہجری کو ماہ شعبان میں فوت ہوئے۔
حدیث نمبر: 158
158 صحيح حديث الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: يَا مُغِيرَةُ خُذِ الإِدَاوَةَ؛ فَأَخَذْتُهَا، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي؛ فَقَضَى حَاجَتَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَأْمِيَّةٌ، فَذَهَبَ لِيُخْرِجَ يَدَهُ مِنْ كُمِّهَا فَضَاقَتْ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِهَا، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّى
مولانا داود راز
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر (غزوہ تبوک) میں تھا آپ نے ایک موقعہ پر فرمایا مغیرہ پانی کی چھاگل اٹھا لے میں نے اسے اٹھا لیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور میری نظروں سے چھپ گئے آپ نے قضائے حاجت کی اس وقت آپ شامی جبہ پہنے ہوئے تھے آپ ہاتھ کھولنے کے لئے آستین اوپر چڑھانی چاہتے تھے لیکن وہ تنگ تھی اس لئے آستین کے اندر سے ہاتھ باہر نکالا میں نے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لئے وضو کی طرح وضو کیا اور اپنے خفین (موزے) پر مسح کیا، پھر نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 159
159 صحيح حديث الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رضي الله عنه، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: أَمَعَكَ مَاءٌ قُلْتُ: نَعَمْ؛ فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَمَشَى حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فِي سَوَادِ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ الإِدَاوَةَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعيْهِ مِنْهَا، حَتَّى أَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجبَّةِ، فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ لأَنْزِعَ خُفَّيْهِ، فَقَالَ: دَعْهُما فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طاهِرَتَيْنِ فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا
مولانا داود راز
سیّدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ایک رات سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ نے دریافت فرمایا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور چلتے رہے یہاں تک کہ رات کی تاریکی میں آپ چھپ گئے پھر واپس تشریف لائے تو میں نے برتن کا پانی آپ کو استعمال کرایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ دھویا ہاتھ دھوئے آپ اون کا جبہ پہنے ہوئے تھے جس کی آستین چڑھانی آپ کے لیے دشوار تھیں چنانچہ آپ نے اپنے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکالے اور بازؤوں کو (کہنیوں تک) دھویا پھر سر پر مسح کیا پھر میں بڑھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتار دوں لیکن آپ نے فرمایا کہ رہنے دو میں نے طہارت کے بعد انہیں پہنا تھا چنانچہ آپ نے ان پر مسح کیا۔